Al-Risala · October 2005 · page

دوسرا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵

کا ایشو بنا لیتے ہیں ۔ یہی وہ منفی نفسیات ہے جس کی بنا پر آپ جیسے لوگوں کو ایڈ جسٹمنٹ کا طریقہ پسپائی اور بزدلی کا طریقہ نظر آنے لگتا ہے۔

۱۰ جون ۲۰۰۵ کو جمعہ کا دن تھا۔ پروگرام کے مطابق ہم لوگ ڈیری فارم کی مسجد میں گئے اور وہاں جمعہ کی نماز ادا کی۔ لوگوں کی فرمائش کے مطابق میں نے خطبہ جمعہ سے پہلے آدھ گھنٹہ تقریر کی۔ میں نے کہا کہ جب میں یہاں پہنچا تو نماز سے پہلے مجھے مسجد کے چیرمین صاحب کے دفتر میں تھوڑی دیر بیٹھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے مجھے آر بری کا انگریزی ترجمہ دکھایا اور بتایا کہ میں اس کو برابر پڑھتا ہوں۔ اس واقعہ کو لے کر میں نے بتایا کہ آر بری کی پیدائش ایک مسیحی خاندان میں ہوئی ۔ مرا کو کے ایک ہوٹل میں قیام کے دوران انہوں نے قرآن کی قرأت ٹیپ پر سنی ۔ وہ اگرچہ عربی زبان نہیں جانتے تھے، مگر قرآن کے حسنِ صوت سے وہ بہت متاثر ہوئے۔ اس کے بعد انہوں نے مصر جا کر عربی سیکھی اور پھر قرآن کا براہِ راست مطالعہ کر کے انہوں نے اس کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اسلام بھی قبول کر لیا تھا۔

میں نے قرآن سے متعلق کئی واقعات بیان کیے اور پھر کہا کہ قرآن خدا کا ایک ابدی معجزہ ہے، ویساہی ایک معجزہ جیسا کہ حضرت موسی کا عصا تھا۔ قدیم مصر میں جب حضرت موسی کا مقابلہ جادوگروں سے ہوا، تو یہ ہوا کہ جادوگروں نے رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں جو میدان میں سانپ کی مانند دوڑنے لگیں۔ قرآن کے مطابق ، اس کو دیکھ کر حضرت موسی ڈر گئے۔ اللہ تعالی نے فرمایا کہ اے موسیٰ ، تم نہ ڈرو بلکہ تم اپنا عصا میدان میں ڈال دو، وہ جادوگروں کے سانپوں کو نگل جائے گا۔ چنانچہ یہی ہوا۔ حضرت موسی نے جب اپنا عصا ڈالا تو اس کے بعد وہ معجزاتی واقعہ ظاہر ہوا جس کو قرآن میں : فإذا هي تلقف ما يأفكون کہا گیا ہے۔

میں نے کہا کہ آج کے مسلمان اگر قرآن کو سمجھیں ، وہ قرآن کے مطابق اپنی سوچ بنائیں ، وہ اپنے حریفوں کے مقابلہ میں قرآن کو استعمال کریں تو آج بھی دوبارہ یہ معجزاتی واقعہ پیش آئے گا کہ : فإذا هي تلقف ما يأفكون ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues

Printed page