Al-Risala · October 2005 · page

دوسرا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵

۱۰ جون کی شام کو اکراء (ICRA) کے ادارے میں ایک اجتماع ہوا۔ اس میں مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلم بھی شریک ہوئے۔ اس اجتماع کے لیے یہ عنوان رکھا گیا تھا: اسلام عالم انسانیت کو کیا دیتا ہے۔ میں نے موضوع کی وضاحت کرتے ہوئے اسلام کی عمومی تعلیمات کو بیان کیا۔ لوگ بہت غور سے اُس کو سنتے رہے۔

اس تقرير کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام کوئی منفر د یا سُپیریر مذہب نہیں۔ اسلام وہی عالمی مذہب ہے جو خدا ہر زمانہ میں مختلف پیغمبروں کے ذریعہ بھیجتا رہا ہے۔ اسلام اور دوسرے مذہبوں میں جو فرق ہے وہ یہ ہے کہ اسلام تاریخی اعتبار سے قابل اعتبار مذہب ہے، جب کہ دوسرے مذاہب کی تاریخی اعتبار یت یقینی نہیں۔ اس سلسلے میں میں نے مختلف غیر مسلم اسکالرس کا حوالہ دیتے ہوئے اس کو علمی طور پر واضح کیا۔

میں نے کہا کہ ڈاکٹر نشی کانت چٹو پادھیائے نے اعتراف کیا ہے کہ پیغمبر اسلام کے سوا کسی مذہبی رہنما کو تاریخی شخصیت نہیں کہا جاسکتا۔ اسی طرح سوامی وویکا نند نے اعتراف کیا ہے کہ یہ صرف اسلام ہے جس نے کامل مساوات پر مبنی انسانی سماج قائم کیا ہے۔ اسی طرح مہاتما گاندھی نے کہا ہے کہ ہمارے وزیروں کو سادگی اور انصاف کے لیے ابوبکر اور عمر کا نمونہ پکڑنا چاہیے۔ کیوں کہ رام اور کرشن تاریخی شخصیت نہیں۔ اسی طرح آرنلڈ ٹوائن بی نے لکھا ہے کہ جدید سائنس کو مؤحدانہ مذہب (اسلام) نے پیدا کیا۔ اسی طرح ڈاکٹر مائیکل ہارٹ نے لکھا ہے کہ محمد پوری انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ کامیاب انسان تھے، وغیرہ۔

اس طرح کی مثالیں دیتے ہوئے میں نے کہا کہ اسلام کا تاریخی پہلو اتنا زیادہ واضح ہے کہ غیر مسلم مؤرخین نے بھی کھلے طور پر اس کا اعتراف کیا ہے۔ مگر ایک کمی ابھی تک موجودہ ہے کہ مذہب کی دنیا میں کھلا ڈائیلاگ رواج نہ پا سکا۔

میں نے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ دوسرے علمی شعبوں میں مسلسل ترقی ہو رہی ہے۔ لیکن مذہب جمود کا شکار ہے۔ مذہب ایک ہی روایتی حالت پر مسلسل قائم ہے۔ اس جمود کا سبب یہ ہے کہ

‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues

Printed page