دوسرا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵
مذہب میں کھلا ڈائیلاگ ممکن نہ ہو سکا۔ جب بھی مذہب میں کھلا ڈائیلاگ کیا جاتا ہے تو وہ فوراً مناظرے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اور مناظرہ ضد اور تعصب کو بڑھا کر ذہنی ترقی کے عمل کو روک دیتا ہے۔
تقریر کے بعد سوال و جواب کا وقفہ تھا۔ حاضرین کی طرف سے کئی سوالات سامنے آئے۔ ڈاکٹر ہر لیش کا مد ارامریکاہ کی ایک یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ وہ بھی اس اجتماع میں شریک ہوئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ میں خود ایک سیکولر آدمی ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ مذہب میں اوپن ڈائیلاگ ممکن نہیں۔ جیسا کہ آپ نے خود کہا۔ آپ حق کے متلاشی تھے۔ پھر آپ نے اسلام کو واحد سچائی (The Truth) کے طور پر دریافت کیا۔ ایسی حالت میں آپ کھلے ذہن کے ساتھ ڈائیلاگ کیسے کر سکتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ سائنسی علوم کی طرح مذہب میں بھی کھلا ڈائیلاگ ہونا چاہیے۔ مگر سائنس میں ڈائیلاگ اس لیے کامیاب ہوتا ہے کہ وہاں کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میں نے آخری سچائی کو پالیا ہے۔ مگر مذہب میں اس قسم کا بے لاگ ڈسکشن ممکن نہیں۔
میں نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ انسان کی صلاحیت کا کمتر اندازہ ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ انسان کے برین میں ایک سو ملین بلین بلین پارٹیکل ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے دماغ میں لامحدود صلاحیت موجود ہے۔ انہی میں سے ایک صلاحیت بلا شبہ یہ ہے کہ وہ خالی الذہن (empty mind) ہو کر سوچ سکے۔ وہ اپنے خیالات سے الگ (detach) ہو کر دوسرے نقطہ نظر کو سن سکے۔
میں نے کہا کہ دماغ کے اس لامحدود امکان کی ایک مثال یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے محبت کرتا ہے مگر عین اُسی وقت وہ اپنے باپ سے اتنی ہی محبت کرتا ہے۔ آدمی اپنی بیوی سے محبت کرتا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ یکساں طور پر اپنی بہن سے بھی محبت کرتا ہے۔ یہ انسانی ذہن کے لامحدود امکانات کی ایک مثال ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کا حوالہ دیتے ہوئے ایک مغربی مفکر نے کہا کہ میرا ظرف اتنا زیادہ بڑا ہے جو ان تمام تضادات کو اپنے اندر سمو سکے:
I am large enough to contain all these contradiction.
‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues