Al-Risala · October 2005 · page

دوسرا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵

اس اجتماع میں ایک اور ہندو تاجر شریک تھے وہ جین مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ اُن کا نام نیول سنگھوں تھا۔ انہوں نے پوری تقریر سنی۔ اس کے بعد انہوں نے ایک سوال کیا۔ انہوں نے کہا کہ سڑک پر اگر کوئی شخص ایک انسان کو قتل کرے تو آپ کو کیسا لگے گا۔ میں نے کہا کہ بہت بُرا لگے گا۔ انہوں نے پھر کہا کہ اگر کوئی شخص ایک کُتے کو سڑک پر قتل کرے تو آپ کو کیسا لگے گا۔ میں نے کہا کہ بہت بُرا لگے۔ پھر اُنہوں نے کہا کہ جب ایسا ہے تو آپ لوگ کیوں ذبیحہ کرتے ہیں اور جانور کو مار کر اُس کا گوشت کھاتے ہیں۔

میں نے کہا کہ اس معاملہ کے دو پہلو ہیں۔ اخلاقی اور غذائی۔ اخلاقی اعتبار سے آپ اس معاملہ کو نہ دیکھیں بلکہ غذائی اعتبار سے دیکھیں۔ آپ جانتے ہیں کہ زمین کے بہت سے حصے ایسے ہیں جہاں گوشت اور مچھلی کے سوا کوئی اور غذا نہیں ملتی۔ میں خود روس گیا تو معلوم ہوا کہ وہاں صرف نان ویجیٹیرین فوڈ دستیاب ہے۔ ایسی حالت میں اگر آپ سارے انسانوں کو ویجیٹیرین فوڈ کھانے پر مجبور کر دیں تو بہت سے لوگ بھوکے مر جائیں گے۔

پھر میں نے کہا کہ بات صرف ویجیٹیرین فوڈ اور نان ویجیٹیرین فوڈ کی نہیں ہے۔ بلکہ اس سے بڑھ کر بات یہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی بھی چیز زندگی سے خالی نہیں۔ ہوا، پانی، دودھ اور سبزی اور پھل ہر چیز میں زندگی ہے۔ آپ خواہ گوشت مچھلی نہ کھائیں تب بھی آپ ہر دن لاکھوں زندگیوں کو ہلاک کر رہے ہیں۔ گویا نان و تجیٹیرین فوڈ کا نظریہ سرے سے قابل عمل ہی نہیں۔

مذکورہ دونوں صاحبان نے میرے جواب کے وزن کو تسلیم کیا۔ چنانچہ اجتماع کے خاتمہ پر جب لوگ جانے لگے تو پروفیسر ہریش کا مدار نے اعتراف کے طور پر ہندو طریقہ کے مطابق، میرا چَرَن اسپرش کیا۔ اُنہوں نے اجتماع کے ناظم مسٹر سید جاوید سے کہا کہ مولا نا صاحب کی تقریر میری توقع سے زیادہ تھی۔ اگر مجھے پہلے سے معلوم ہوتا تو میں اُن کے تمام پروگرام میں شرکت کرتا۔ مسٹر نیول سنگھوں نے اپنے ایک مسلم ساتھی ریاض احمد صاحب سے کہا کہ اسلام ایک پریکٹکل مذہب ہے۔ اسلام میں ہر بات بہت کلیر ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues

Printed page