دوسرا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵
اس اجتماع سے فارغ ہو کر ہم لوگ جوگیش وری کے فلیٹ میں آگئے ۔ یہاں کئی لوگ اکھٹا ہوگئے ۔ اُن سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں ۔ ایک سوال کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آج کے اجتماع سے ایک بات یہ واضح ہوتی ہے کہ انڈیا میں دعوتی کام کے مواقع بہت زیادہ ہیں ۔ آپ نے دیکھا کہ میں نے اپنی تقریر میں واضح طور پر دوسرے مذہبوں کے مقابلہ میں اسلام کو زیادہ مستند مذہب بتایا ۔ مگر کسی ہندو کی طرف سے منفی ردعمل سامنے نہیں آیا ۔ بلکہ سبھی نے پسندیدگی کا اظہار کیا۔
ایک اور سوال کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ انڈیا کے ہندوؤں میں کام کرنے کے لیے ہم نے بہت سے بروشراور پمفلٹ انگریزی زبان میں شائع کیے ہیں ۔ یہ اس لیے ہیں کہ آپ اور دوسرے تمام لوگ ان کو حاصل کر کے اپنے اپنے حلقے میں پھیلائیں ۔ ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اپنے ہینڈ بیگ میں اُن کورکھے اور ملاقات اور انٹریکشن کے دوران وہ انہیں لوگوں تک پہنچاتا رہے ۔ ان میں اسلام کو عمومی اور آفاقی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ مسلمانوں کی تیار کی ہوئی تمام کتابیں شعوری یا غیر شعوری طور پر مسلمانوں کے ذہن کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہیں ۔ اس لیے وہ غیر مسلموں کے ذہن کو ایڈریس نہیں کرتیں ۔ ہم نے ان کتابچوں کو عمومی انسانی انداز میں تیار کیا ہے۔ تا کہ ہر ایک اس میں سے اپنے تجسس کا جواب پاسکے ۔ یہ کتابیں مختصر ہونے کی بنا پر ایسی ہیں کہ آدمی فوراً ہی ان کو پڑھ لے۔
11 جون ۲۰۰۵ کی صبح ہوئی تو میں جوگیش وری کے فلیٹ میں تھا۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق، محمد حنیف صاحب صبح کو آئے۔ ان کے ساتھ روانہ ہو کر میں ملت نگر پہنچا۔ یہاں کی مسجد میں فجر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کی۔ مسجد کافی بڑی تھی اور نمازیوں کی تعداد بھی کافی ۔ اس مسجد میں پہلے بھی نماز ادا کر چکا ہوں ۔
اس کے بعد محمد حنیف صاحب کے ساتھ قریب کے پارک میں ٹہلنے کے لیے گیا۔ یہاں ایک صاحب ملے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے مجھ کو ٹی وی پر دیکھا تھا۔ اس لیے وہ مجھ کو دیکھتے ہی
‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues