Al-Risala · October 2005 · page

دوسرا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵

پہچان گئے ۔ اِن کے ساتھ کچھ دیر تک پارک کی بنچ پر بیٹھا۔ ان صاحب نے بتایا کہ وہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ اس سے پہلے اُن کے مزاج میں شدت تھی۔ وہ دوسروں سے فوراً لڑ پڑتے تھے۔ مگر الرسالہ پڑھنے کے بعد ان کے اندر تحمل کی صفت پیدا ہو گئی ۔ اب وہ زیادہ کامیاب و پر سکون زندگی گزار رہے ہیں ۔

الرسالہ کے اکثر قاری یہی بات کہتے ہیں ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسلم رہنماؤں کی منفی سیاست کے نتیجے میں پوری کی پوری قوم شدت پسند بن گئی ۔ ہر مسلمان معمولی بات پر بھڑک اُٹھتا ہے۔ جدید تاریخ میں الرسالہ پہلا پرچہ تھا جس نے مسلمانوں کو صبر اور تحمل کی اہمیت بتائی۔ ایک طرف قرآن اور حدیث اور دوسری طرف عقلی دلائل کے ذریعہ لوگوں کو یقین دلایا کہ ترقی کا راز صبر و تحمل میں ہے، نہ کہ ٹکراؤ اور احتجاج میں ۔

اس کے بعد ہم لوگ جوگیش وری واپس آگئے ۔ یہاں عصر کی نماز ادا کی۔ کئی لوگ اکٹھا ہوگئے جن سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں ۔

مسٹر فاروق فیصل نے کہا کہ الرسالہ میں دار الاسلام، دار الکفر اور دار الحرب کے عنوان سے آپ کا جو مضمون آیا ہے وہ بہت اہم ہے۔ اس کی اہمیت کی بنا پر ضرورت ہے کہ اس موضوع پر ایک باقاعدہ سیمینار کیا جائے ۔

میں نے پوچھا کہ مختلف موضوعات پر بار بار بڑے بڑے سیمینار ہو رہے ہیں۔ کیا ان سیمناروں کا کوئی مثبت نتیجہ نکلا ہے۔ کسی قدر سوچنے کے بعد انہوں نے کہا: نہیں ۔ انہوں نے کہا میں نے خود کئی سیمناروں میں شرکت کی ہے۔ مگر وہاں "نشستند و گفتند و برخاستند" کے سوا مجھ کو کچھ اور نہیں ملا۔ میں نے کہا کہ جب آپ کو خود یہ تجربہ ہو چکا ہے کہ ان سیمناروں کا کوئی فائدہ نہیں تو اب اسی قسم کا ایک اور بے فائدہ سیمنار آپ کیوں کرنا چاہتے ہیں ۔ میں نے کہا کہ سیمنار کا لفظ بولنے میں بہت بڑا معلوم ہوتا ہے مگر کم از کم موجودہ حالات میں اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اصل یہ ہے کہ سیمنار میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ اکٹھا ہوتے ہیں۔ میرے تجربے کے مطابق یہ سب کے سب ایگوئسٹ (egoist) ہوتے ہیں ۔ ان کا

‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues

Printed page