دوسرا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵
مزاج یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی اور کی بات نہ مانیں۔ چنانچہ وہ نیا نیا نکتہ نکال کر مسلسل بحث کرتے رہتے ہیں، ایسی بحث جو کبھی کسی نتیجے تک نہیں پہنچتی۔ حقیقی علم وہ ہے جو آدمی کے اندر ماڈسٹی پیدا کرے۔ مگر ایسے صاحب علم بے حکم یاب ہیں جن کے علم نے ان کو ماڈسٹ بنا دیا ہو۔
الرسالہ کے قارئین کی ایک نشست میں یہ طے ہوا کہ بمبئی کے کسی مناسب مقام پر ایک ماہانہ اجتماع ہر مہینے کے پہلے اتوار کو کیا جائے۔ پھر اجتماع کے آرگنائزر کے طور پر مسٹر سید جاوید کا انتخاب کیا گیا۔
میں نے کہا کہ کسی بھی مشن کی کامیابی کے لیے اجتماعی جدوجہد بہت ضروری ہے۔ میں نے کہا کہ جماعت بندی اور اجتماعی جدوجہد میں فرق ہے۔ جماعت بندی تعصب اور گروہ پرستی پیدا کرتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں اجتماعی جدوجہد ایک عملی ضرورت ہے۔ کچھ لوگوں نے جماعت بندی میں غلو کرکے اس کو عقیدے کا مسئلہ بنا دیا ہے۔ یعنی جو جماعت میں نہیں وہ ’’من شَذَّ شَذَّ فی النار‘‘ کا مصداق ہے۔ اس قسم کا نظریہ بلاشبہ بدترین غلو ہے۔ اور غلو، اسلام میں نہیں۔
صحیح یہ ہے کہ اجتماعیت کا تعلق عقیدے سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق عملی ضرورت سے ہے۔ کوئی ایک شخص خواہ وہ کتنا ہی زیادہ قابلیت رکھتا ہو، کبھی کوئی بڑا کام نہیں کر سکتا۔ بڑے کام کے لیے اجتماعی جدوجہد یا مشترکہ جدوجہد لازمی طور پر ضروری ہے۔ اجتماعی جدوجہد ایک عملی ضرورت ہے۔ وہ شرعی عقیدے کا مسئلہ نہیں۔
۱۱ جون ۲۰۰۵ کو ماہِم میں مسٹر رضوان احمد ایڈوکیٹ کی رہائش گاہ پر ایک اجتماع ہوا۔ اس میں تعلیم یافتہ مرد اور عورت شریک ہوئے۔ اس اجتماع میں ایک سوال کی کسی قدر مفصل وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ میرے مطالعے کے مطابق جنت میں جانے کے لیے مُزکّٰی شخصیت (purified soul) (طٰہ ۷۶)کی کی ضرورت ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے جنت کے حصول کے بارہ میں جو نظریے بنائے وہ سب کے سب مجھے بے بنیاد نظر آتے ہیں۔ کوئی سمجھتا ہے کہ کلمہ کے الفاظ دہرالینا جنت میں داخلے کے لیے کافی ہے۔ کوئی کسی وسیلے پر
‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues