Al-Risala · October 2005 · page

Succesful are those who purify their souls and

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵

بھروسہ کئے ہوئے ہے۔ کوئی فضائل کی کہانیوں میں گم ہے۔

میرے مطالعے کے مطابق یہ سب ’’امانی‘‘ (النساء ۱۲۳) کی مثالیں ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ جنت ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کریں۔

میں نے کہا کہ قرآن میں آیا ہے: قد أفلح من زكها وقد خاب من دسها (الشمس ٩-١٠)

Succesful are those who purify their souls and

failures are those who pollute their souls (91: 9-10)

اس معاملے کی وضاحت حدیث سے ہوتی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ:

إن هذه القلوب تصدأ كما يصدأ الحديد إذا أصابه الماء . قيل وما جلاءها ؟ قال : كثرة ذكر الموت وتلاوة القرآن (دلوں کو زنگ لگتا ہے جس طرح لوہے کو پانی سے زنگ لگتا ہے۔ پوچھا گیا اس زنگ کی صفائی کا طریقہ کیا ہے؟ فرمایا: موت کو زیادہ یاد کرنا اور قرآن کو پڑھنا) دل میں زنگ کی عملی صورت کیا ہوتی ہے اس کو ایک اور حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: إن المؤمن إذا أذنب كانت نكتة سوداء في قلبه . فإن تاب واستغفر صقل قلبه، وإن زاد زادت حتى يعلو قلبه (مومن جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک کالا دھبہ پڑ جاتا ہے۔ پھر اگر وہ توبہ اور استغفار کرے تو اس کا دل صاف ہو جاتا ہے۔ اور اگر یہ دھبے بڑھتے رہیں تو وہ اس کے پورے دل پر چھا جاتے ہیں)

اس معاملے کو جدید نفسیاتی تحقیق کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے۔ جدید نفسیاتی تحقیق بتاتی ہے کہ انسانی دماغ کے تین حصے ہیں: کانشس مائنڈ، سب کانشس مائنڈ اور ان کانشس مائنڈ۔ مطالعے کے مطابق یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص کوئی بُرائی کرتا ہے تو پہلے دن وہ اس کے کانشس مائنڈ میں ہوتی ہے۔ اگر وہ اس کو لے کر رات کو سو جائے تو فطری پراس کے تحت وہ اس کے سب کانشس مائنڈ میں چلی جاتی ہے۔ اگر وہ اسی حالت پر باقی رہے تو اگلی رات یا کئی راتوں کے بعد وہ ان کانشس مائنڈ میں

‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues

Printed page