Succesful are those who purify their souls and
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵
چلی جاتی ہے۔ کوئی چیز جب تک کانشس مائنڈ میں ہو، وہ پوری آدمی کے کنٹرول میں ہوتی ہے لیکن سب کانشس مائنڈ میں جانے کے بعد اگر مزید تاخیر ہو اور وہ فطری پر اس سے گزرتے ہوئے اُن کانشس مائنڈ میں پہنچ جائے تو اس کے اوپر سے آدمی کا کنٹرول ختم ہو جاتا ہے۔ اس تحقیق کی روشنی میں معاملہ کو سمجھا جاسکتا ہے۔ جب آدمی کے ذہن میں کوئی بُرائی یا دوسرے لفظوں میں نگیٹیو آئٹیم (negative item) آئے تو اس کو چاہیے کہ وہ فوراً اس کی تطہیر کرے تا کہ وہ اس کے حافظے میں پازیٹیو آئٹیم کے طور پر اسٹور (store) ہو۔ اگر آدمی نے ایسا نہیں کیا تو دھیرے دھیرے اس کا اُن کانشس مائنڈ نگیٹیو آئٹیم کا اسٹور بن جائے گا۔ جیسا کہ معلوم ہے انسان کا قول و عمل زیادہ تر اس کے اُن کانشس مائنڈ سے کنٹرول ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں جس آدمی کا لاشعور نگیٹیو آئٹیم سے بھر جائے وہ گویا کثیف روح بن گیا اور جو آدمی اپنے لاشعور کو مطہر کر سکے وہی خدا کے نزدیک مطہر روح قرار پائے گا۔
۱۱ جون ۲۰۰۵ کی شام کو ہم لوگ دوبارہ جوگیش وری کے فلیٹ میں واپس آئے۔ یہاں حسب معمول لوگوں سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ ایک مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ کارآمد انسان وہ ہے جس میں دو میں سے ایک صفت ہو۔ یا تو وہ باتوں کو خود گہرائی کے ساتھ سمجھ سکتا ہو ۔ اور اگر اس کے اندر یہ صلاحیت نہ ہو تو اس کے اندر یہ صفت ہونی چاہیے کہ وہ سمجھ دار آدمی کی بات فوراً مان لے۔ جن لوگوں کے اندر دونوں میں سے کوئی ایک بات موجود نہ ہو، ان کا انجام تباہی کے سوا اور کچھ نہیں۔ مولا نا اسماعیل میرٹھی نے اس بات کو سادہ انداز میں اس طرح بیان کیا ہے: جو نہ دانا ہو، نہ داناؤں کا مانے کہنا میرے نزدیک یہ بات درست ہے مگر اسی کے ساتھ میرا تجربہ ہے کہ دونوں ہی میں ایک بات مشترک ہے اور وہ تواضع (modesty) ہے۔ دانش مندی دانش مندی اُسی وقت کارآمد ہے جب کہ اس کے اندر تواضع کی صفت کامل طور پر موجود ہو۔ اسی طرح غیر دانش مندی کی غیر دانش مندی اُس وقت مفید ہے جب کہ وہ دل سے یہ مانتا ہو کہ میں دانش مند نہیں ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues