Succesful are those who purify their souls and
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵
عشاء کی نماز کے بعد لوگوں کو بتایا کہ نماز اصلًا ایک انفرادی عمل ہے۔ نماز کا مقصد خشوع ہے اور خشوع کسی ایک فرد کے دل میں پیدا ہوتا ہے۔ اس کے باوجود کیوں نماز کو جماعت کے ساتھ لازم کر دیا گیا۔ اس کا مقصد مسلمانوں کے اندر اجتماعیت کی اسپرٹ پیدا کرنا ہے۔ عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اندر باجماعت نماز کی دھوم مچی ہوئی ہے، مسجدیں باجماعت نمازیوں سے بھری رہتی ہیں، مگر اجتماعیت کی روح مسلمانوں کے اندر بالکل موجود نہیں۔ گروہی عصبیت کے تحت وہ اپنے بنائے ہوئے حلقے کے ساتھ وابستہ رہ سکتے ہیں، مگر وسیع تر معنوں میں اسلامی اجتماعیت اُن کے اندر سرے سے موجود نہیں۔
۱۲ جون ۲۰۰۵ کو بمبئی سے واپسی کا دن تھا۔ صبح کو فجر کی نماز میں نے ہارون شیخ صاحب کے ساتھ ادا کی۔ پھر اُن کے ساتھ قریب کے ایک پارک میں گیا۔ بمبئی میں پارک اتنے کم ہیں کہ یہاں صبح کو اس میں داخلے کے لیے اس کی فیس دینی پڑتی ہے۔ چنانچہ جس پارک میں ہم لوگ گئے اس میں فی کس پانچ روپے ادا کرنا پڑا۔ کافی دیر ہم لوگ یہاں ٹہلتے رہے۔ اس کے بعد ہارون شیخ صاحب کے ساتھ ان کے گھر پر چائے پی۔ اور پھر ہارون شیخ صاحب کے ساتھ ائیر پورٹ کے لیے روانہ ہو گیا۔ ڈاکٹر ریکھانے ٹیلی فون پر بتایا تھا کہ وہ ائیر پورٹ آکر مجھ سے ملیں گی اور اسلام کے بارہ میں مجھ سے کچھ سوالات پر گفتگو کریں گی۔ مگر کسی وجہ سے وہ وقت پر ائیر پورٹ نہ پہنچ سکیں۔ کچھ دیر ان کا انتظار کرنے کے بعد میں ائیر پورٹ کے اندر داخل ہو گیا۔
بمبئی سے دہلی کے لیے دوبارہ جیٹ ایر کی فلائٹ سے سفر کیا۔ یہ بڑا جہاز تھا، مگر اس کی بیش تر سیٹیں خالی تھیں۔ میں نے ایک ایئر ہائٹس سے پوچھا کہ آج کیوں ایسا ہے کہ جہاز میں بہت کم مسافر دکھائی دے رہے ہیں۔ اس نے بتایا کہ آج اتوار کا دن ہے اور اتوار کے دن دہلی اور بمبئی دونوں جگہ کاروبار بند رہتا ہے۔ اس لیے آج مسافر بہت کم ہیں۔ کیوں کہ آج کل ہوائی سفر میں زیادہ تجارتی لوگ ہوتے ہیں۔
تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی پرواز کے بعد جہاز گیارہ بجے دہلی کے ائیر پورٹ پر اُتر گیا۔ یہاں میرے
‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues