Al-Risala · October 2005 · page

Succesful are those who purify their souls and

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵

کچھ ساتھی موجود تھے، ان کے ساتھ روانہ ہو کر گھر پہنچا۔ بمبئی کے لوگ مزید قیام کے لیے کہہ رہے تھے مگر اتوار کی شام کو ہماری ہفتہ وار کلاس ہوتی ہے، اس لیے مجھے صبح کی فلائٹ سے واپس آنا پڑا۔ گفتگو کی روداد ایک سوال کے جواب میں میں نے کیا کہ کچھ لوگ قرآن کی آیت سے اقامت دین کا لفظ لیتے ہیں اور اس کے معنی یہ بتاتے ہیں کہ اس سے مراد ہے: اقامتِ سیاست۔ یعنی سیاسی اقتدار پر قبضہ کرکے قوانینِ شرعی نافذ کرنا۔ یہ قرآنی آیت کی تفسیر نہیں ہے، بلکہ قرآنی آیت کو اپنے خود ساختہ نظریے کے لیے استعمال کرنا ہے۔ اس قسم کا غیر منطقی استدلال تمام باطل فرقے کرتے رہے ہیں۔ میں نے اپنی کتاب ’’تعبیر کی غلطی‘‘ میں تفصیل کے ساتھ بتایا ہے کہ سورۂ شوریٰ کی آیت أقيموا الدين (۱۳) میں اقامتِ دین سے مراد دین کی پیروی ہے۔ یعنی دین کی ابدی تعلیمات کو ذاتی زندگی میں اپنانا۔ اس آیت کا کوئی تعلق قانون اور سیاست سے نہیں ہے۔ میں نے حوالوں کے ذریعہ دکھایا ہے کہ اس آیت میں تمام مفسرین یہی مفہوم لیتے ہیں۔ پوری تاریخ میں کوئی ایک مفسر ایسا نہیں جو اس آیت میں اقامتِ دین کا وہ مفہوم لیتا ہو جو موجودہ زمانہ کے نام نہاد انقلابی مفکرین لیتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبروں کے منکرین نے پیغمبر کا انکار اس لیے کیا کہ وہ انہیں بشر دکھائی دیے۔ بعد کو پیغمبروں کے مومنین نے یہ کہا کہ اپنے پیغمبروں کو غیر بشر ثابت کر ڈالا۔ اس معاملہ میں مسلمانوں کا کوئی استثناء نہیں ہے۔ الطاف حسین حالی نے بہت پہلے مسلمانوں کے بارہ میں کہا تھا کہ: نبی کو جو چاہیں خدا کر دکھائیں۔ یہ مزاج مزید اضافے کے ساتھ آج تک جاری ہے۔ اس کا مظاہرہ نعتیہ اشعار میں بخوبی طور پر ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں دو شعر یہ ہیں :

مدینے کی مسجد میں منبر کے اوپر بلا عین کے ایک عرب ہم نے دیکھا وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہو کر اتر پڑا ہے مدینے میں مصطفیٰ ہو کر نعت گوئی ایک بدعت ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پہلے نعت خواں حضرت حسان تھے۔ میرے

‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues

Printed page