Al-Risala · October 2005 · page

Succesful are those who purify their souls and

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵

نزدیک یہ بدعت پر جھوٹ کا اضافہ ہے۔ میرے نزدیک حضرت حسان نعت خواں نہیں تھے بلکہ وہ اسلام کے دفاع میں شعر کہا کرتے تھے۔

ایک تفسیری مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ قرآن میں جنت کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ: ويدخلهم الجنة عرفها لهم (محمد ۶) میں نے کہا کہ اس آیت میں ’’عرّفہا لہم‘‘کی کی وضاحت اکثر مفسرین نے بینھا لھم جیسے الفاظ سے کی ہے۔ یعنی اللہ مومنین کو جنت میں داخل کرے گا جس کو اُنہیں معلوم کرا دیا ہے۔

میرے نزدیک یہ اس آیت کی ایک ناقص تفسیر ہے۔ اس آیت پر غور کرنے کے بعد میں یہ سمجھا ہوں کہ اس آیت میں عرفھا لھم سے مراد یہ ہے کہ اُن کو جنت کی پیشگی پہچان یا معرفت کرا دی ہے۔ اس سے مراد غالباً یہ ہے کہ جنت میں داخلہ اُن خوش قسمت انسانوں کو ملے گا جو جنت کی سوچ میں اتنا غرق ہوئے کہ اُنہیں دنیا ہی میں جنت کی معرفت مل گئی۔ گویا کہ وہ موت سے پہلے ہی جنت کا تصوراتی مشاہدہ کرنے لگے۔

اس سے یہ بھی مستنبط ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص جنت کا اتنا زیادہ طالب بن جائے کہ وہ جنت کے علم سے گذر کر جنت کی معرفت کا درجہ حاصل کر لے تو اس قسم کا عارفانہ ادراک اُس کے لیے غالباً جنت میں داخلے کا سرٹیفکیٹ بن جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ پچھلے تقریباً ایک سو سال سے مسلمانوں کے درمیان ایک تحریک چلتی رہی ہے کہ مسلمان مخلوط علاقے میں نہ رہیں بلکہ ان کی آبادیاں غیر مسلموں کی آبادی سے الگ بنائی جائیں۔ تقریباً تمام مسلم رہنما اس سوچ کا شکار رہے۔ میرے نزدیک یہ بدترین رہنمائی تھی۔ جس کا مسلمان شکار ہوئے۔ ان مسلم رہنماؤں نے ایک عظیم تاریخی حقیقت کو نہیں جانا وہ یہ کہ اختلاط (interaction) ہر قسم کی ترقیوں کا راز ہے۔ علیحدہ پاکٹ بنانا ترقی کے راستہ میں مستقل رکاوٹ ہے۔ اسی مصلحت کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری زمانہ میں صحابہ کو یہ ہدایت دی تھی کہ وہ عرب سے نکل کر دوسرے ملکوں میں پھیل جائیں۔ چنانچہ پیغمبر

‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues

Printed page