Succesful are those who purify their souls and
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵
اسلام کی وفات کے بعد صحابہ کی اکثریت نے ایسا ہی کیا۔ وہ اطراف کے عرب ملکوں میں چلے گئے۔ حالاں کہ ان ملکوں کی زبان اور ان کا کلچر صحابہ کے لیے بالکل اجنبی چیز کی حیثیت رکھتا تھا۔ ایک موقع پر میں نے ایک حدیث کی وضاحت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: میرے اوپر نبوت ختم ہوگئی، میرے بعد کوئی اور نبی آنے والا نہیں۔ اس کا مطلب سادہ طور پر صرف یہ نہیں ہے کہ گنتی کے اعتبار سے پیغمبروں کی فہرست مکمل ہوگئی، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کے بعد اب کسی اور پیغمبر کے آنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ وہ اسباب ختم ہو گئے، جس کی وجہ سے بار بار پیغمبر بھیجے جاتے تھے۔
میں نے کہا کہ پیغمبر کا مقصد ہدایت الہی کو انسانوں تک پہنچانا ہے۔ اس کے لیے پیغمبر کا شخصاً موجود ہونا ضروری نہیں۔ اگر ایک ایسا گروہ موجود ہو جو پیغمبر کے نمائندے کی حیثیت سے امر حق لوگوں تک پہنچاتا رہے تو ایسی حالت میں پیغمبر مبعوث نہیں کیا جائے گا۔ پیغمبر اسلام کے بعد تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ خدا کا کلام (قرآن) اپنی اصلی حالت میں مکمل طور پر محفوظ ہو گیا۔ یہ حفاظت اس بات کی ضمانت بن گئی کہ ہر نسل میں اور ہر زمانہ میں ایسے افراد موجود ہیں جو ہدایت الہی کی صحیح معرفت حاصل کرکے اُسے دوسروں تک پہنچائیں۔ پیغمبر آخرالزمان سے پہلے اس قسم کی ضمانت موجود نہ تھی اس لیے بار بار پیغمبر بھیجے جاتے رہے۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی کتاب (India Wins Freedom) میں بتایا ہے کہ تقسیم کی ذمے داری کانگریس کی قیادت پر ہے۔ ۱۹۳۶ کا الیکشن آل انڈیا نیشنل کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ دونوں ملک کر لڑے تھے۔ اس الیکشن میں دونوں پارٹیوں کے درمیان یہ اتفاق ہو گیا تھا کہ مسلم وزرات کا کوٹہ مسلم لیگ سے پُر کیا جائے گا۔ مگر الیکشن کے خاتمے پر جب کانگریس کو امید سے زیادہ کامیابی حاصل ہوئی تو اس نے اپنا موقف بدل لیا۔ اس نے یوپی کی وزارت میں یہ کیا کہ مسلم لیگ کے نمائندہ عبدالرحمن نشتر کو چھوڑ کر کانگریسی امیدوار حافظ محمد ابراہیم کو وزیر بنا دیا۔ یہ واقعہ مسلم لیگ کے قائد محمد علی جناح کے لیے بامب شیل (bomb
‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues