Succesful are those who purify their souls and
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵
(shell ثابت ہوا۔ وہ ہمیشہ کے لیے کانگریس سے الگ ہوگئے اور تقسیم ملک کی تحریک میں شدت کے ساتھ سرگرم ہوگئے ۔ جس کا نتیجہ پاکستان کا قیام تھا۔
مولانا ابوالکلام آزاد کا تعلق کانگریس سے تھا اور مسٹر محمد علی جناح کا تعلق مسلم لیگ سے۔ مگر سیاسی بصیرت کے اعتبار سے دونوں ایک سطح پر نظر آتے ہیں۔ دونوں اس بات سے بے خبر تھے کہ سب سے بڑی سیاست یہ ہے کہ عذر کو عذر نہ بنایا جائے۔ جو لوگ عذر کو عذر بنائیں ان کے لیے سیاست کے میدان میں داخل ہونا ہی جائز نہیں۔
میں نے کہا کہ دورِ اول کے مسلمانوں کے لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اسلام کی عظیم تاریخ بنائی۔ مگر شاید لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ وہ مسلمان تاریخ سازی کا یہ کردار اسی لیے ادا کر پائے کہ انہوں نے عذر کو عذر نہیں بنایا۔ مثال کے طورپر خلیفۂ اول کے انتقال کے وقت انصار کے نمائندہ کو خلیفہ نہیں بنایا گیا۔ اس وقت مہاجرین کی طرف سے یہ کہا گیا کہ: نحن الأمراء وأنتم الوزراء۔ مگر بعد کو اس وعدے پر عمل نہیں کیا گیا۔ انصار اگر اس کو عذر بناتے تو یہ واقعہ اُن کے لیے بامب شیل ثابت ہوتا۔ لیکن انہوں نے اس عذر کو عذر نہیں بنایا۔ اس طرح اسلام کی تاریخ آگے بڑھ گئی۔ عام انسان صرف حال میں دیکھتا ہے، حقیقی لیڈر وہ ہے جو حال کے ساتھ مستقبل کو شامل کر کے دیکھ سکے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ محدثین نے ایک اصول یہ بیان کیا ہے کہ جب بھی کوئی شخص ایسی روایت بیان کرے جس میں چھوٹے عمل پر بڑا ثواب بتایا گیا ہو تو اس کو موضوع سمجھنا چاہیے۔ میں نے کہا کہ اس مسئلے کی مزید وضاحت یہ ہے کہ کوئی ”چھوٹا‘‘ عمل ہمیشہ ایک ظاہری عمل ہوتا ہے اور ظاہری عمل پر بڑے بڑے ثواب کی کہانیاں بنانا بلا شبہہ باطل ہے۔ ثواب ہمیشہ داخلی یا قلبی عمل پر ملتا ہے اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں فضائل کی کہانیاں داخلی عمل پر نہیں بنتیں بلکہ وہ ہمیشہ ظاہری عمل پر بنتی ہیں۔ میں نے کہا کہ فضائل اعمال کا مطلب فضائل ظاہر اعمال ہے نہ کہ فضائل حقیقت اعمال۔
بمبئی کے ایک علاقے سے گزرتے ہوئے میں نے وہاں کی مسجد میں نماز پڑھی۔ باہر نکلا تو
‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues