Succesful are those who purify their souls and
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵
میرے ساتھی نے کہا کہ یہ پورا علاقہ مسلمستان ہے۔ میں نے کہا کہ میرے لیے یہ کوئی خوشی کی بات نہیں۔ مسلمانوں کا اپنا پاکیٹ بنا کر الگ تھلگ رہنا ان کی ترقی میں ایک مستقل رکاوٹ ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دوسروں کے ساتھ مل کر رہنے کی اہمیت کو سمجھیں۔ وہ دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہنا سیکھیں۔ اس کے بغیر وہ ترقی نہیں کر سکتے۔
ایک مجلس میں ایک صاحب تھے جو بار بار درمیان میں بول پڑتے تھے۔ میں نے کہا کہ آپ کا یہ طریقہ آپ کے ذہنی ارتقا میں رکاوٹ ہے۔ ایک انگریزی مقولہ ہے کہ ”جب میں بول رہا ہوں تو میں سوچ نہیں رہا ہوں‘ جب آپ بولتے ہیں تو اخذ کرنے کا عمل معطل ہو جاتا ہے۔ آپ اگر چاہتے ہیں کہ آپ کو ذہنی ارتقاء کی نعمت حاصل ہو تو آپ اپنی اس روش کو مکمل طور پر چھوڑ دیں۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا آج کل درگاہ کلچر کی دھوم ہے۔ کچھ مُردہ شخصیتوں کو شعوری یا غیر شعوری طور پر خدائی کا درجہ دے کر ان کے نام پر دھوم مچی ہوئی ہے۔ میں نے کہا کہ درگاہ کلچر کی اس مقبولیت کا سبب صرف ایک ہے اور وہ ہے خدا کی معرفت نہ ہونا۔ آج مسلمانوں کے لیے خدا صرف ایک رسمی عقیدہ ہے، خدا اُن کے زندہ یقین کا حصہ نہیں۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے وہ چیز وجود میں آئی ہے جس کو میں بزرگ پرستی کہتا ہوں۔ موجودہ درگاہ کلچر اسلام میں بلا شبہ اجنبی ہے۔ اسلام میں قبر پرستی کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ خواہ اس کو کتنا خوب صورت نام دے دیا جائے۔ ۔ میں نے درگاہ کلچر کے ایک مبلغ کی تقریر ٹی وی پر سنی۔ ان سے سوال کیا گیا تھا کہ مُرادیں پوری کرنے کی طاقت تو صرف خدا کو حاصل ہے۔ پھر لوگ قبروں پر جا کر کیوں اُن سے مرادیں مانگتے ہیں۔ مقرر موصوف نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ مرادیں پوری کرنے کی طاقت صرف خدا کو حاصل ہے۔ لیکن جب خدا اپنی طرف سے کسی کو اپنی عنایت کے طور پر مرادیں پوری کرنے کی طاقت دے دے تو وہ توحید کے خلاف نہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ کسی ملک میں اصل طاقت صدر مملکت کو ہوتی ہے، لیکن جب وہ خود اپنی طرف سے اپنے اختیار کا ایک جُزو گورنر کو دے دے تو گورنر بھی اس عطا کردہ اختیار کو استعمال کرنے کا حق دار ہو جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ کسی غیر خدا کو مُراد پوری کرنے کا اختیار
‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues