یک من علم را دہ من عقل می باید
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵
ہونا، صدر و گورنر جیسی غیر متعلق مثال سے ثابت نہیں ہوتا، اس کے ثابت ہونے کے لیے براہِ راست قرآن میں دلیل ہونی چاہیے۔
صدر یا وزیر اعظم کی مثال پر قیاس کر کے خدا کے معاملے کو ثابت کرنا، قیاس مع الفارق کا معاملہ ہے۔ خدا کے متعلق ایسی مثال دینا، حقیقت بیانی نہیں، بلکہ وہ مجرمانہ جسارت کے ہم معنی ہے۔ صدر یا وزیر اعظم کیوں کسی کو اپنا نائب مقرر کرتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ صدر یا وزیر اعظم بہر حال انسان ہیں۔ ان کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اپنی پوری سلطنت کو براہ راست اپنے کنٹرول میں رکھ سکیں۔ چنانچہ وہ اپنے عجز کی تلافی کے لیے اپنا نائب مقرر کرتے ہیں۔ مگر خدا اپنی ذات میں قادرِ مطلق ہے۔ اس کو اپنے اختیار کے استعمال کے لیے ہرگز کسی اور کی ضرورت نہیں۔ ایک معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ صرف کچھ کتابیں پڑھنے سے علم نہیں آتا۔ فارسی کا مقولہ ہے کہ :
یک من علم را دہ من عقل می باید
یعنی ایک من علم کے لیے دس من عقل چاہیے۔ کتابوں کے مطالعے سے آدمی کو معلومات حاصل ہوسکتی ہیں، لیکن آدمی جب تک صحیح تجزیہ کر نا نہ جانے وہ اپنے مطالعے یا تعلیم سے عارفِ حقیقت نہیں بن سکتا۔ ظاہری قسم کے مسئلے مسائل کو بتانے کے لیے معلومات کافی ہو سکتی ہیں، مگر دین کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کے لیے معرفت درکار ہے۔
اس سفر میں ایک بڑا عبرت ناک واقعہ معلوم ہوا۔ بمبئی میں ایک ڈاکٹر نیتو مائڈ کے تھے۔ ۲۰۰۳ میں ان کا انتقال ہو گیا۔ وہ امراضِ قلب کے بہت بڑے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ سرجری میں اُن کو کمال حاصل تھا۔ انہوں نے بہت سے دل کے مریضوں کی کامیاب سرجری کی تھی۔ آخر میں اُن کو اپنے فن پر بہت غرور آ گیا تھا۔ یہاں تک کہ وہ خدا کے منکر بن گئے۔
ایک صاحب نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب نے ایک بار ایک مسلم خاتون کے دل کا آپریشن کیا۔ بعد کو مسلم خاتون نے ڈاکٹر صاحب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ آپریشن کامیاب
‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues