یک من علم را دہ من عقل می باید
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵
رہا۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا اس میں خدا کی کیا بات ہے۔ تم پیسہ دو اور میں تم کو صحت دوں گا: Give me money and i will give you cure. وہ ایک آپریشن کا معاوضہ تین لاکھ روپے لیتے تھے۔ عجیب بات یہ ہے کہ خود اُن کا انتقال دل کے دورے میں ہوا۔ وہ اپنی قیمتی کار میں سفر کر رہے تھے، ہندو جا ہاسپٹل پہنچے کہ اچانک اُن پر دل کا دورہ پڑا۔ اُن کو فوراً اسپتال لے جایا گیا، اتفاق سے وہاں اُس وقت جو عملہ تھا وہ اُن کو پہچانتا نہ تھا۔ چنانچہ اسپتال میں اُن کے ساتھ بہت زیادہ بے توجہی کا معاملہ ہوا۔ وہ بے بسی کے ساتھ چلاتے رہے کہ میں ڈاکٹر مانڈ کے ہوں۔ مگر عدم واقفیت کی بنا پر وہاں بروقت اُن کا صحیح علاج نہ ہوسکا اور اسپتال ہی میں اُن کا خاتمہ ہو گیا۔
ہر انسان مکمل طور پر عاجز ہے مگر وہ اپنے کو قادر سمجھ لیتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ غور و فکر سے کام نہیں لیتا۔ بمبئی میں ایک سرجن ڈاکٹر کامران نے مجھے بتایا کہ انسان کے جسم میں ایک خاص عنصر ہوتا ہے۔ یہی آپریشن کے بعد اندمال کا سارا کام کرتا ہے۔ اگر یہ عنصر نہ ہو تو تمام سرجن بے روزگار ہو جائیں۔ ڈاکٹر مانڈ کے اگر اس پوری حقیقت پر غور کرتے تو وہ ہر سرجری کے بعد اپنے عجز کو دریافت کرتے۔ لیکن غور و فکر نہ کرنے کی وجہ سے وہ برعکس طورپر سرجری کے واقعے میں اپنی مہارت دیکھتے رہے۔ اس لیے ایسا ہوا کہ جس واقعے میں انہیں عجز کی غذا مل رہی تھی، اُس سے وہ غلط طور پر کبر کی غذا لیتے رہے اور آخر کار اس بے خبر کے ساتھ اُن کا خاتمہ ہو گیا۔
ایک مجلس میں میں نے بتایا کہ موجودہ زمانہ میں سفر دعوت کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس سلسلے میں میں نے مولانا محمد ذکوان ندوی کا ایک تجربہ بتایا۔ یہ تجربہ ان کے بیان کے مطابق یہ ہے : ” جون ۲۰۰۵ء کو میں نے دہلی اور لکھنؤ کے درمیان ایک سفر کیا۔ یہ سفر گومتی ایکسپریس کے ذریعہ ہوا۔ اس سفر میں کچھ دعوتی تجربات ہوئے جن کا ذکر یہاں کیا جاتا ہے۔ میں اپنی عادت کے مطابق سفر کے دوران اپنی ڈائری لکھ رہا تھا۔ میرے ہم سفر مسٹر ہریش نے سوال کیا: آپ کیا لکھ رہے ہیں؟ میں نے کہا: ڈائری۔ اس طرح بات شروع ہوئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues