Al-Risala · October 2005 · page

یک من علم را دہ من عقل می باید

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵

پھر میں نے ہندی اور انگریزی کے کچھ پمفلٹس انہیں دیے۔ وہ کافی متاثر ہوئے اور انہوں نے کہا میں آؤں (Center for Peace and Spirituality towards God Realization) CPS گا ۔ مسٹر ہریش دہلی کے ایک ٹی وی (آنکھوں دیکھی) کے نمائندہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو جب بھی کوئی پروگرام دینا ہو فون کیجئے ۔ میں اپنی ٹیم کے ساتھ آؤں گا اور پروگرام ریکارڈ کر کے نشر کروں گا۔ دوسری سیٹ پر بیٹھے ہوئے ایک صاحب مسٹر شنکر رونیار (غازی آباد) نے بھی بڑھ کر ایک پمفلٹ لیا اور اس کو پڑھنے کے بعد کہا: بہت اچھا لکھا ہے۔ مگر اس میں کچھ کٹّر پنتھ ہے۔ میں نے کہا کہ پمفلٹ میں لکھی ہوئی کوئی ایک بات بتائیے جس سے آپ نے یہ جانا کہ اس میں کٹر پنتھ ہے؟ اس پر وہ خاموش ہوگئے۔ پھر انہوں نے کہا: اسلام میں چار شادی کا حکم ہے جس کی کوئی لاجک میری سمجھ میں نہیں آتی ۔ میں نے کہا: آپ کی عمر مجھ سے بہت زیادہ ہے آپ مجھے کسی ایک مسلم فیملی کا نام بتائیے جس نے چار شادیاں کی ہوں ۔ تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد انہوں نے کہا: میرے علم میں تو ایسا کوئی آدمی نہیں۔ میں نے کہا: جو چیز عملاً موجود نہیں اس میں الجھنے کی ضرورت کیا ہے۔ تھوڑی دیر گفتگو کرنے کے بعد وہ دوسرے پمفلٹ دیکھنے لگے۔ پھر کافی اختلاط شروع ہو گیا اور کئی لوگوں نے سوالات شروع کر دیے ۔ مسٹر شنکر رونیار نے بابری مسجد کے متعلق بتایا کہ وہ سرا سر نادانی اور ہٹ دھرمی کا کیس تھا۔ مسٹر اڈوانی اور دوسرے لوگوں نے صرف اپنی سیاست چمکانے کے لیے یہ ڈرامہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا: میں بابری مسجد ڈھائے جانے کے بعد وہاں بنائے جانے والے عارضی مندر میں درشن کے لیے ایودھیا حاضر ہوا تو میں نے وہاں کی صورت حال دیکھ کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور کہا: پربھو! ہم آپ سے کیا مانگیں آپ تو خود ہی مظلوم ہیں۔ اس سے اچھے تو آپ پہلے ہی تھے۔ جھوٹی سیاست کے نام پر لوگوں نے اب آپ کو ایک سائے دار مکان سے باہر نکال کر ایک چھوٹے سے کیمپ میں لاکر رکھ دیا ہے۔ پھر پڑھا اور کہا: اس کا لکھنے والا تو ایک فلاسفر معلوم ہوتا ہے۔ وہ کافی متاثر ہوئے، انہوں نے کہا کہ اس رائٹر سے تو ملنا چاہیے۔ میں ضرور دہلی آکر ان سے ملوں گا، اور آشیر واد لوں گا۔ سامنے بیٹھی ہوئی دو "غیر مسلم خواتین نے بھی دوسرے ہندی

‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues

Printed page