Al-Risala · October 2005 · page

یک من علم را دہ من عقل می باید

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵

انگریزی پمفلٹس کے علاوہ ’سفلتا کے سوتر‘ دیکھا اور بہت پسند کیا۔ میں نے پوچھا کہ آپ نے اس کتابچے سے کیا سیکھا؟ انہوں نے کہا مجھے اس سے حوصلہ ملا۔ اور میں نے سیکھا کہ آدمی کو کسی بھی حال میں اپنا حوصلہ نہیں کھونا چاہیے۔

دورانِ گفتگو بہت سے لوگوں نے شوق سے CPS کے کتابچے لیے، ایک صاحب مسٹر ہریش کمار (پنجاب، 9814589292:Tel) اپنی سیٹ سے اُٹھ کر میرے پاس آئے اور کچھ کتابچے حاصل کیے۔ میں نے ان سے کچھ باتیں کیں اور پوچھا آپ کیا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا میں نغمے گاتا ہوں۔ میں نے کہا کہ نغمے دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک سچا نغمہ اور دوسرا جھوٹا نغمہ۔ آپ جو نغمہ گاتے ہیں وہ جھوٹا نغمہ ہے۔ وہ اس جھوٹی دنیا میں جھوٹی زبان سے گایا جاتا ہے تاکہ کچھ جھوٹے کان اسے سن سکیں ۔ یہ ساری چیزیں ایک دن مٹی ہو جانے والی ہیں۔ سچا نغمہ ایک خدائی نغمہ ہے۔ آپ سچے نغمے گائیے اور جھوٹے نغمے چھوڑیے۔ اس پر وہ مسکرائے اور کتابچے لے کر اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد میرے پاس آئے اور کہا میں آپ سے مل کر بہت خوش ہوا۔ آپ نے تو میری آنکھیں کھول دیں۔ مجھے آپ سے محبت محسوس ہو رہی ہے۔ آپ برائے کرم میری اس کتاب پر ’اُردو‘ میں میرا نام اور اپنا فون نمبر لکھ دیں۔ میں نے کہا آپ اُردو جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا نہیں، بس آپ کی یادگار ہو جائے گی۔ دورانِ سفر ان حضرات سے دعوتی انداز میں باتیں ہوتی رہیں۔ اس طرح نو گھنٹے کا یہ سفر خدا کے فضل سے ایک دعوتی سفر بن گیا۔ اپنی منزل پر پہنچنے کے بعد اُن لوگوں نے کہا ”آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ کی وجہ سے ہمارا سفر بہت اچھا گزرا۔ اس سفر میں ہمیں سچائی ملی، یہ سفر ہمارے لیے ایک تاریخی سفر بن گیا۔ “ یہ تجربہ بتاتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں دعوت کے امکانات کتنے بڑھ گئے ہیں۔ سفر اور دوسرے مواقع پر ایسا ہوتا ہے کہ بار بار لوگوں سے ملاقاتیں ہوتی ہیں، اگر آدمی کے اندر داعیانہ ذہن موجود ہو تو وہ ان ملاقاتوں کو کامیابی کے ساتھ دعوت کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

ایک واقعہ پیش آیا۔ اس پر میں نے کہا کہ کسی کو اس کی غلطی پر متنبہ کرنے کے دو طریقے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues

Printed page