Al-Risala · October 2005 · page

یک من علم را دہ من عقل می باید

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۵

فن لطیفہ کے اعتبار سے یہ ایک اچھا لطیفہ ہے مگر نصیحت اور اصلاح کے اعتبار سے وہ کوئی اچھی مثال نہیں۔ کیوں کہ اس لطیفہ کو سن کر آدمی صرف یہ کرے گا کہ وہ ہنس دے۔ اس قسم کے لطیفے سے کسی شخص کے اندر اصلاح کی تڑپ پیدا ہونے والی نہیں۔

ایک مسلم اخبار میں پاکستان کے بارے میں ایک خبر تھی جس کی سرخی یہ تھی:”دینی مدارس سے غیر ملکی طلبہ کا انخلاء“ خبر میں بتایا گیا تھا کہ :

”صدر جنرل پرویز مشرف نے پاکستان میں زیر تعلیم دینی مدارس کے غیر ملکی طلبہ سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے وطن واپس چلے جائیں۔ انہوں نے غیر ملکی صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ غیر ملکی اور دوہری شہریت رکھنے والے طلبہ کو مدارس میں تعلیم کے لیے ویزا نہیں دیا جائے ۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے دینی مدارس میں تقریباً ۱۴۰۰ غیر ملکی طلبہ زیر تعلیم ہیں، ان کے پاکستان سے انخلاء کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ “ پاکستان نے موجودہ زمانہ میں برعکس نہند نام زنگی کا فور کی مثال پیش کی ہے۔ ۱۹۴۷ سے پہلے برصغیر ہند کے مسلم رہنماؤں نے یہ کہا کہ ہم کو ایک علاحدہ لینڈ چاہیے جہاں ہم اسلام پر مبنی نظام قائم کر سکیں ۔ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ تقسیم کے بعد اپنے آپ ایسا ہو جائے گا۔ مگر جب ایسا نہیں ہوا تو اس کے حصول کے لیے ہنگامہ خیز الیکشنی سیاست شروع کی گئی۔ الیکشنی سیاست بھی اسلام نظام کے قیام میں ناکام رہی تو اس کے بعد اسلامی جہاد کے نام پر تشدد کی سیاست شروع کر دی گئی۔ یعنی ایک پاکستانی بزرگ کے الفاظ میں مسلح ٹکراؤ (armed conflict)۔ جب متشددانہ جہاد نا کافی ثابت ہوا تو اس کے بعد خود کش بمباری کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ اس نام نہاد اسلامی جہاد میں پاکستان کے تقریباً تمام مدرسے اور مسجدیں اور ادارے براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ملوث ہو گئے۔ اب آخری وقت آ گیا ہے کہ اس معاملہ میں مسلم رہنما اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے نئی سمت سفر طے کریں۔ موجودہ زمانہ میں کمیونیکیشن اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ ہوائی جہاز بھی اسی کا ایک حصہ

‹ Previous page Next page › Contents of October 2005 All issues

Printed page