Let no other suffer what I have suffered.
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۵، صفحہ ۴۵۰
سوشل سروس ایک انسانی خدمت ہے اور اس اعتبار سے وہ بلاشبہ ایک قابل تعریف عمل ہے۔ مگر زندگی کے بارے میں فطرت کے تخلیقی نقشہ کی اہم تر نسبت سے دیکھا جائے تو اس کے اندر ایک غیر مطلوب پہلو چھپا ہوا ہے۔ غور کیجیے کہ جو شخص کسی مصیبت کا تجربہ کرتا ہے اور پھر وہ سوشل سروس میں مشغول ہو جاتا ہے، اس کی نفسیات کیا ہوتی ہے۔ اس کی نفسیات ایک جملہ میں یہ ہوتی ہے کہ ـــــ جو کچھ میں نے بھگتا وہ دوسروں کو نہ بھگتناپڑے :
Let no other suffer what I have suffered.
یہ نفسیات بتاتی ہے کہ آدمی سارے معاملہ کو بس دنیا کا معاملہ سمجھتا ہے۔ اس کے نزدیک مصیبت صرف دنیا کی مصیبت ہے اور سب سے بڑا کام یہ ہے کہ دنیا کو بے مصیبت جگہ بنایا جائے۔ حالاںکہ یہ سوچ فطرت کے تخلیقی نقشہ کے خلاف ہے، اس لیے وہ یہاں واقعہ بننے والی ہی نہیں۔ جب بھی دنیا میں کسی کو کوئی نا خوشگوار تجربہ ہو تو وہ اس لیے ہوتا ہے کہ آدمی اس سے صحیح سبق لے ۔ وہ اس حقیقت کو یاد کرے کہ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں کسی کو بھی آرام کی زندگی ملنے والی نہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ دنیا کے منفی تجربات سے سبق لے۔ وہ اپنے اندر اس شعور کو جگائے کہ اس محدود دنیا میں مجھے اپنی مطلوب زندگی ملنے والی نہیں۔ مجھے اپنی مطلوب زندگی اگلے دورِ حیات کی لا محدود دنیا میں تلاش کرنی چاہیے۔
ایسی حالت میں نا خوشگوار تجربات کا صحیح سبق یہ ہے کہ آدمی اگلی دنیا کی جنت کو یاد کرے، وہ اپنے اندر اس سوچ کو بیدار کرے کہ ــــ جو کچھ میں نے آج کی عارضی دنیا میں بھگتا وہ مجھے کل کی ابدی دنیا میں نہ بھگتناپڑے :
Let me not suffer in the Hereafter that which I have suffered in this world. کامیاب وہ ہے جس نے عارضی دنیا میں ابدی دنیا کو پہچانا۔ جس نے موجودہ دنیا کی ناکامی میں اگلے دورِ حیات کی ابدی کامیابی کا راز دریافت کر لیا۔
خدا نے موجودہ دنیا کو ایک ایسے نقشہ کے مطابق بنایا ہے کہ یہاں ہر انسان ’’مشقت‘‘ میں
‹ Previous page Next page › Contents of November 2005 All issues