Al-Risala · January 2005 · page

اسپین کا سفر

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵

دونوں زبانوں میں تھے۔ اس کا ایک مضمون بڈاپسٹ (Budapest) کے بارے میں تھا۔

جیسا کہ معلوم ہے، بڈاپسٹ ایک زمانہ میں ترکوں کی عثمانی سلطنت کے تحت تھا۔ چنانچہ مضمون میں بتایا گیا تھا کہ اب بھی عثمانیوں کے آثار شہر میں ترکی کے غسل خانوں کی صورت میں موجود ہیں جو کہ پورے شہر میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ دریائے دانوب (Danube) کے کنارے اب بھی گل بابا کا مزار موجود ہے جس کو یحییٰ پاشانے سولہویں صدی میں اس گلاب پسند درویش کی یادگار میں بنایا تھا: میڈرڈ اسپین کی راجدھانی ہے۔ ۱۲ دسمبر کی صبح کو میں یہاں کے ائر پورٹ پر پہنچ چکا تھا۔ میڈرڈ ائرپورٹ نہایت وسیع اور شاندار ہے۔ یہاں مسافروں کی سہولت کے لیے ہر قسم کا اعلیٰ انتظام تھا۔ جب میں میڈرڈ کے شاندار ائر پورٹ پر چل رہا تھا تو بے اختیار میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میں نے روتے ہوئے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں سب سے زیادہ جو چیز کھوئی گئی وہ اعتراف اور انسانیت کی خیر خواہی ہے۔ اگر ان کے اندر یہ صفت موجود ہوتی تو وہ اس واقعہ پر تڑپ اٹھتے۔ وہ یہاں آکر ان لوگوں سے کہتے کہ ہم آپ کے کارناموں کا اعتراف کرتے ہیں۔ ہم نے انسانی قافلہ کو روایتی ترقی کے دور تک پہنچایا تھا، آپ نے اپنی محنت سے انسانیت کو سائنسی ترقی کے دور تک پہنچا دیا اور تاریخ میں پہلی بار ایک خوبصورت دنیا تعمیر کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ آئیے ہم دونوں مل کر خالق کا شکریہ ادا کریں۔ تاکہ ہم دونوں خدا کی زیادہ بہتر دنیا میں داخلہ کے مستحق قرار پائیں۔ وہ معیاری دنیا جس کی صرف ایک جھلک خدا نے آج کی دنیا میں رکھی ہے تا کہ ہم بعد کی زیادہ بہتر دنیا کا پیشگی تعارف حاصل کر سکیں ، یعنی وہ دنیا جس کا نام جنت ہے۔

ایک مسلم شاعر نے کہا ہے کہ ہر ملک ہمارا ہے، کیوں کہ وہ ہمارے خدا کی ملکیت ہے: ہر ملک ملکِ ما است که ملکِ خدائے ما است

‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues

Printed page