Al-Risala · November 2005 · page 458

انسان اور حیوان

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۵، صفحہ ۴۵۸

زندگی کی توجیہہ نہیں ہوتی اور جب کوئی تصور کسی مشاہدے کی توجیہہ کے لیے ایک ہی امکانی تصور بن جائے تو یہ اس بات کا علمی ثبوت ہوتا ہے کہ وہ تصور عین حقیقت ہے۔ یہی اس معاملے میں درست علمی موقف ہے۔

مذکورہ حقیقتوں کو سامنے رکھ کر انسانی زندگی کی توجیہہ کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا انسان کی صرف عارضی قیام گاہ ہے۔ وہ اس کی ابدی منزل نہیں۔

ہر انسان لازمی طور پر موت سے دوچار ہوتا ہے۔ یہ موت کیا ہے؟ موت دراصل ایک درمیانی پل ہے۔ موت عارضی زندگی سے ابدی زندگی کی طرف منتقل ہونا ہے۔ موجودہ دنیا وہ دنیا ہے جہاں آدمی گویا اپنی تربیت کرتا ہے۔ موت سے پہلے کا مرحلہ حیات گویا ایک ٹریننگ پریڈ ہے۔ یہاں وقتی قیام کے دوران اپنے آپ کو تربیت یافتہ بنا کر اگلی مستقل دنیا میں جانا ہے، جہاں یہ موقع ملے گا کہ آدمی اپنے ذہن کے تمام امکانات کو استعمال کرے اور مکمل فل فل مینٹ کی خوشی حاصل کر سکے۔ تاہم دوسرے مرحلہ حیات میں انہیں لوگوں کو جگہ ملے گی جنہوں نے پہلے مرحلہ حیات میں اپنی باقاعدہ تربیت کی ہوگی۔ جو لوگ غیر تربیت یافتہ حالت میں وہاں پہنچیں گے وہ وہاں کے مواقع استعمال کرنے سے محروم رہ جائیں گے۔ وہ قبل از موت دور حیات میں بھی محروم رہیں گے اور وہ بعد از موت مرحلہ حیات میں بھی فل فل مینٹ سے مکمل طور پر محروم رہیں گے۔ یہ محرومی بلاشبہ ان کے لیے ایک ایسی سزا ہوگی جس سے زیادہ سخت سزا کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔

انسان اگر صرف اپنے آج میں جئے اور اپنے آج میں مر جائے تو وہ گویا حیوان کی زندگی جیا اور حیوان کی زندگی مر گیا۔ حقیقی انسان وہ ہے جو اپنے آج سے گذر کر اپنے کل تک پہنچ جائے۔ جو اپنی محدود دنیوی عمر کو ختم کر کے اس طرح مرے کہ اس میں اپنے کل کی تعمیر کر لی ہو، وہی حقیقت میں انسان ہے اور وہی اس قابل ہے کہ اس کو کامیاب انسان کا ٹائٹل دیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2005 All issues

Printed page