Al-Risala · December 2005 · page 498

جے پور کا سفر

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۴۹۸

حدیث میں وحی کا چھیا لیسواں حصہ بتایا گیا ہے (مشکوۃ المصابیح 64:8)

دہلی۔ جے پور شتابدی ایکسپریس کی جس کو چ میں میں نے سفر کیا اس میں میرے سامنے کی دیوار پر دائیں بائیں دو خوبصورت تصویریں لگی ہوئی تھیں۔ بائیں طرف کی رنگین تصویر میں دکھایا گیا تھا کہ ایک بیل کچے راستے پر ایک گاڑی کو کھینچ رہا ہے۔ جس کے مقابلے میں دائیں طرف کی خوبصورت تصویر میں نظر آ رہا تھا کہ ایک ریلوے انجن ٹرین کے ساتھ لوہے کی پٹری پر دوڑ رہا ہے۔ ان دونوں تصویروں میں گویا انسان کے سفری ارتقاء کو مصوّر کیا گیا تھا۔ وہ تصویر کی صورت میں بتا رہا تھا کہ انسان کس طرح حیوانی سفر کے مرحلے سے گزر کر مشینی سفر کے مرحلے تک پہنچا ہے۔ یہ خدا کی رحمت کا کیسا عجیب نمونہ ہے کہ اس نے انسان کی پیدائش کے ساتھ پیشگی طور پر اس کے لیے حیوانی سواریوں کا انتظام کیا، اور پھر انسان کو یہ موقع دیا کہ اپنی عقل استعمال کرکے مشینی سواریاں ایجاد کرے اور تاریخ کو مشینی دور تک پہنچائے۔ گھوڑا، اس معاملے کی ایک عجیب مثال ہے۔

شتابدی ایکسپریس کی ایگزیکیٹو کوچ غالباً جرمنی سے امپورٹ کی گئی ہے۔ انڈین ریلوے کے معیار سے اس کو ایک اعلیٰ کلاس کہا جاسکتا ہے۔ کوچ کی آدھی سے زیادہ سیٹ خالی تھی۔ اس کوچ میں میرے سو زیادہ تر مغربی سیاح تھے اور کچھ ہندوستانی، جو بظاہر لیڈریا سرکاری افسر معلوم ہوتے تھے۔ لیکن ظاہری مادی سہولتوں کے باوجود مجھے اس کے اندر سکون حاصل نہ تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ عام ذوق کے مطابق، اس کے اندر مسلسل میوزک کی آواز آرہی تھی۔ مسافروں کے موبائل ٹیلی فون کی گھنٹی بجتی تھی اور وہ اپنے دور کے ساتھیوں سے بات کرنے لگتے تھے۔

مجھے یاد آیا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں اپنی اہلیہ خدیجہ کے ساتھ رہتے تھے اس وقت آپ کو آپ کے پڑوسیوں کی طرف سے طرح طرح کی اذیتیں پہنچتی تھیں۔ ایک دن جبریل آپ کے پاس آئے۔ انھوں نے کہا کہ خدیجہ کو خدا نے سلام کہلا یا ہے اور یہ کہا ہے کہ تمہارے لیے جنت میں ایک ایسا مکان تیار ہے جہاں نہ کوئی شور ہوگا اور نہ کوئی تکلیف (لا صخب فیہ ولا نصب ) (صحیح مسلم ، فضائل الصحابہ ) میں نے سوچا کہ دنیا میں آدمی کے پاس مادی اعتبار سے خواہ سب کچھ

‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues

Printed page