Al-Risala · December 2005 · page 499

جے پور کا سفر

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۴۹۹

ہو جائے لیکن پھر بھی اس کو یہاں سکون حاصل نہیں ہو سکتا۔ دوسرے اسباب کے علاوہ اُس کا ایک خاص سبب وہ ہے جس کا اشارہ قرآن کے ان الفاظ میں ملتا ہے : حسن اولئک رفیقا ( النساء ٦٩) جنت کی دوسری امتیازی صفتوں کے علاوہ اس کی ایک صفت یہ ہے کہ وہاں صرف منتخب لوگ جگہ پائیں گے۔ جنت سچے انسانوں کے پڑوس میں رہنے کا نام ہے۔ اس حقیقت کو ایک فارسی شاعر نے کسی قدر طنزیہ انداز میں اس طرح بیان کیا ہے :

بہشت آں جا کہ آزاری نہ باشد کسے را با کسے ، کارے نہ باشد طبعی طور پر مجھے خاموشی پسند ہے۔ جب میں لوگوں کو غیر ضروری طور پر بولتے ہوئے دیکھتا ہوں تو میری زبان پر درد کے ساتھ یہ الفاظ آجاتے ہیں۔ یہ زبان کا مصرفانہ استعمال ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ من صمت نجا ( جو چپ رہا اس نے نجات پائی ) اس کا مطلب میری سمجھ میں یہ آتا ہے کہ جو شخص کم بولے گا وہ زیادہ سوچے گا اور جو شخص زیادہ سوچے گا اس کو یہ موقع ملے گا کہ وہ فکری اور روحانی اعتبار سے زیادہ ترقی کرے۔ اور نتیجہ اپنے آپ کو ضیاع سے بچالے۔

موجودہ زمانے میں خدا نے انسان کو نہایت قیمتی چیزیں عطا کیں۔ مگر میرے تجربے کے مطابق، بیش تر لوگ ان کا صرف غلط استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً جدید کمیونیکیشن خدا کی ایک عظیم نعمت ہے مگر غالباً اس نعمت کا تقریباً ۹۵ فیصد حصہ صرف بے فائدہ یا غلط مقاصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ اور جہاں تک کہ اس نعمت پر شکر کا تعلق ہے وہ تو میں نے اپنے تجربے میں حقیقی طور پر کسی کے اندر پایا ہی نہیں، نہ مذہبی لوگوں میں نہ سیکولر لوگوں میں۔ اس معاملے میں دونوں کی حالت ایک ہے۔ میرے آگے کی سیٹ پر ایک صاحب بیٹھے ہوئے تھے جو بظاہر ایک لیڈر معلوم ہوتے تھے۔ ان کا موبائل ٹیلی فون ہر وقت بجتا رہتا تھا۔ ہر چند منٹ پر ان کے پاس کہیں سے ایک کال آتی تھی۔ سفر کے دوران وہ مسلسل موبائل پر بات کرتے رہے۔ ان کے پاس تین موبائل فون تھے۔ موبائل ٹیلی فون بلاشبہ ایک نعمت ہے مگر موجودہ زمانے میں مصنوعی تعلقات کی کثرت نے موبائل فون کو ایک زحمت میں تبدیلی کر دیا ہے۔ دنیا کی زندگی میں سب سے بڑی نعمت کسی انسان کے لیے یہ ہے کہ اس کا ربط خدا

‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues

Printed page