Al-Risala · December 2005 · page 500

جے پور کا سفر

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۰۰

کے ساتھ قائم ہو جائے۔ اس کے اور خدا کے درمیان وہ تعلق ہو جس کو حدیث میں’’مناجی ربہ‘‘کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس اعلیٰ ربط کے امکانات ہر وقت موجود رہتے ہیں لیکن انسان نے اپنے آپ کو غیر خدائی تعلقات سے اتنا زیادہ باندھ رکھا ہے کہ اس کے پاس خدائی تعلقات کے لیے وقت نہیں۔ اگر چہ یہ غیر خدائی تعلقات اکثر مصنوعی اور غیر ضروری ہوتے ہیں۔ جو شخص ہر وقت مناجاتِ انسانی میں مشغول ہو وہ کبھی مناجاتِ خداوندی کا تجربہ نہیں کر سکتا۔

ٹرین کے دوران مطالعے کے لیے ۱۸ دسمبر کے دو انگریزی اخبار موجود تھے۔ ایک ٹائمز آف انڈیا اور دوسرے ہندوستان ٹائمز۔ ٹائمز آف انڈیا (۱۸ دسمبر ۲۰۰۲) کے پہلے صفحے پر یہ خبر تھی کہ ۲۵ سال کولا وینو بینکاٹش (Kolavennu Venkatesh) کا انتقال ۱۷ دسمبر ۲۰۰۲ کو ہو گیا۔ وہ بچپن سے ایک لاعلاج بیماری Muscular dystrophy میں مبتلا تھا۔ جب اس کو معلوم ہوا کہ وہ زندہ نہیں بچے گا تو اس نے چاہا کہ وہ اپنے جسم کو عطیے میں دے دے تا کہ طبعی موت سے پہلے اس کے اعضا ضرورت مندوں کو پیوند کاری کے لیے دیے جاسکیں۔ یہ مسئلہ عدالت میں گیا لیکن عدالت نے نوجوان کو اس عطیے کی اجازت نہیں دی۔

اس واقعے پر ٹائمز آف انڈیا نے اپنے ۱۸ دسمبر کے شمارے میں ایڈیٹوریل لکھا تھا جس کا عنوان یہ تھا: آخری آزادی (The Final Freedom) اس ایڈیٹوریل میں کہا گیا تھا کہ عدالت نے مذکورہ نوجوان کو موت سے پہلے اپنے اعضا عطیے میں دینے کی اجازت نہ دے کر اس کو اس سے محروم کر دیا کہ وہ دوسروں کے کام آسکے۔ بینکاٹش چاہتا تھا کہ وہ درخت کی اس پتی کی طرح دنیا سے رخصت ہو جو درخت سے ٹوٹ کر زمین پر گرتی ہے تا کہ وہ زمین کو زرخیز کر سکے: Venkatesh wished to leave life like a leaf that falls off the tree only to enrich the earth. مگر قانون نے بینکاٹش کو ایسا کرنے کی اجازت نہ دی۔ اخبار کا یہ تبصرہ اس مفروضے کی بنیاد پر ہے کہ موت کے بعد انسان کا وجود ختم ہو جاتا ہے۔ مگر یہ مفروضہ بجائے خود غلط ہے جس پر اس

‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues

Printed page