Al-Risala · December 2005 · page 501

جے پور کا سفر

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۰۱

تبصرے کی بنیاد قائم کی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موت انسان کے اگلے وسیع تر مرحلہ حیات میں داخلے کا دروازہ ہے۔ ایسی حالت میں کسی انسان کے لیے وہی روش درست ہے جو اگلے مرحلہ حیات میں اس کے کام آئے۔ یہ بطور خود ایک معیار قائم کر کے اس پر اپنا فیصلہ دینا ہے۔ مگر جب یہ معیار غلط ہو تو فیصلہ بھی یقینی طور پر غلط ہو جائے گا۔

ہندوستان ٹائمس (۱۸ دسمبر ۲۰۰۲) میں مسٹر خشونت سنگھ کا ہفتہ وار کالم شائع ہوا تھا۔ اس کی سرخی تھی: (Spirit is Unwilling) اس کے تحت درج تھا کہ اخباری رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ لوگوں نے ڈاکٹر من موہن سنگھ کو یہ مشورہ دیا کہ ہندوستان میں ایک روحانی وزارت (ministry of spiritualism) قائم کی جائے۔ یہ تجویز یقینی طور پر بے معنی ہے کیوں کہ روحانیت کے نام پر وزارت قائم کرنے سے ملک میں روحانیت نہیں آتی۔ روحانیت ایک روحانی شخص کے ذریعے آتی ہے نہ کہ کسی سرکاری محکمے کے ذریعے۔ مضمون نگار نے لکھا ہے کہ روحانیت کے نام پر ملک میں بہت سے لوگ اپنی سرگرمیاں جاری کیے ہوئے ہیں۔ مگر ان سرگرمیوں سے اب تک صرف روحانی پیشواؤں کو فائدہ ہوا ہے۔ یہ لوگ بڑے بڑے آشرام بنائے ہوئے ہیں۔ وہ پورے ملک میں سفر کرتے رہتے ہیں۔ وہ دولت مندوں کے گھروں میں ٹھہرتے ہیں۔ ان کے پاس کاریں ہیں اور وہ آرام کے ساتھ رہتے ہیں۔ لیکن ان سرگرمیوں کا کوئی اثر عوام تک نہیں پہنچا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہم دنیا کی سب سے اچھی قوم بن گئے ہوتے: They have huge ashrams, travel all over the country, stay in homes of the rich, have cars and live in comfort. Does reading sacred texts or listening to sermons have any impact on people? If it did, we should have become the most pious, god-fearing and honest people in the world. یہ مسئلہ روحانیت کا نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے جدید مواقع نے لوگوں کو پروفیشنل بنا دیا ہے۔ اب ہر چیز ایک پروفیشن بن گئی ہے۔ سیاست، صحافت، ایجوکیشن اور اسی طرح مذہب اور روحانیت ہر چیز نے پروفیشن کی صورت اختیار کر لی ہے۔ ایسی حالت میں مذکورہ الفاظ ہر شعبے پر صادق آتے ہیں نہ کہ صرف روحانیت پر۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ لوگوں کو پروفیشنلزم اور کیریزم

‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues

Printed page