جے پور کا سفر
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۰۲
سے اوپر اٹھایا جائے ۔ فائدے کے بجائے مقصد کو ترجیحی درجہ دیا جائے ۔
ٹرین کے اندر اعلانات ہو رہے تھے ۔ دس بجے یہ اعلان ہوا کہ جلد ہی ہم الور پہنچنے والے ہیں۔ الور کی خصوصیات کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ اپنی وائلڈ لائف سینچوری کے لیے مشہور ہے ۔ مجھے یاد آیا کہ حال میں اخبارات میں شیروں کے بارے میں ایک رپورٹ آئی تھی ۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ انڈیا کے چڑیا گھر اچھی حالت میں نہیں ہیں ۔ چنانچہ تقریباً ڈیڑھ سو شیر چڑیا گھروں سے نکال کر جنگلوں میں چھوڑے جانے والے ہیں“ تاکہ وہاں وہ اپنی طبعی موت مرجائیں “ ۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ یہ شیر وہ ہیں جو افریقی شیر اور ہندوستانی شیر کے کراس بریڈنگ (Cross Breeding) سے پیدا ہوئے تھے۔ ان شیروں کے اندر جسم کا مدافعتی سسٹم (immune system) بگڑ گیا ہے۔ چنانچہ ان کے اندر بیماریوں سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت بہت کم ہو گئی ہے ۔ وہ طرح طرح کے عوارض میں مبتلا رہتے ہیں ۔ کوئی علاج ان کے لیے کار گر ثابت نہیں ہوا۔ آخر میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ان کو چڑیا گھر سے رہا کرکے جنگلوں میں ڈال دیا جائے جہاں وہ اپنے آپ مرجائیں۔
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نیچر کے نظام میں مداخلت کتنی زیادہ خطرناک ہے۔ اس کا ثبوت بار بار ملا ہے ۔ مثلاً مختلف ملکوں میں ڈیم بنا کر پانی کے فطری نظام میں جو مداخلت کی گئی اس کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوا۔ برطانیہ میں گایوں کی خوراک میں نباتاتی اجزا کے ساتھ لکھی اجزا ملائے گیے۔ اس کی وجہ سے ان کا دودھ غیر صحت مند ہو گیا۔ اسی طرح نباتاتی فصلوں میں موجودہ زمانے میں وہ ملاوٹی طریقہ اختیار کیا گیا جس کو ہائی برڈ (hybrid) کہا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جو فصلیں حاصل ہوئیں وہ طبی نقطۂ نظر سے ناقص تھیں ۔ اس فہرست میں جدید تباہ کن صورت وہ ہے جو ایڈس کی بیماری کی صورت میں سامنے آتی ہے ۔ خدا نے جنسی تعلقات کے لیے فطری طریقہ شوہر اور بیوی کا ازدواجی طریقہ بنایا تھا۔ موجودہ زمانے میں آزادی کے نام پر ازدواجی زندگی سے باہر جنسی تعلق شروع کر دیا گیا ۔ یہی غیر فطری تعلق ہے جس نے ایڈس کی شکل میں ایک ایسی بیماری کی صورت اختیار کر لی جو دورِ جدید کی سب سے مہلک بیماری تصور کی جاتی ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues