Al-Risala · December 2005 · page 503

جے پور کا سفر

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۰۳

ایڈس کی بیماری کا علاج تلاش کرنے کے لیے اربوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں۔ حالاں کہ اس کا سادہ علاج یہ ہے کہ لوگ غیر فطری تعلقات کو چھوڑ کر ازدواج کا فطری تعلق اختیار کریں۔ قرآن کے الفاظ میں وہ غیر مسافحین (النساء: ۲۴) بن جائیں۔

ٹرین کسی قدر لیٹ ہوکر جے پور اسٹیشن پہنچی۔ اپنے کو کچھ نہ سمجھنے کے مزاج میرے اندر اتنا زیادہ ہے کہ جب بھی میں کوئی سفر کرتا ہوں تو ہمیشہ اپنے داخلی احساس کے تحت مجھے یہ اندیشہ رہتا ہے کہ اسٹیشن پر یا ائیر پورٹ پر کوئی شخص میری رہبری کے لیے موجود نہ ہو تو کیا ہوگا۔ اس اندیشے کے تحت میں نے دہلی میں کانفرنس کے نمائندے مسٹر چاند سے کہا کہ مجھے جے پور کا نمبر اور پتہ دے دیجیے تاکہ ضرورت ہو تو اسٹیشن پہنچ کر کانٹیکٹ کرسکوں۔ انھوں نے کہا کہ آپ اس کی فکر نہ کریں۔ آپ جب جے پور ریلوے اسٹیشن پر پہنچیں گے تو وہاں بہت سے لوگ آپ کا سواگت کرنے کے لیے موجود ہوں گے۔ چنانچہ عملاً ایسا ہی ہوا۔ میرے اندیشے کے خلاف اسٹیشن پر بہت سے لوگ موجود تھے۔ میں نے کثرت سے سفر کیے ہیں مگر میرا مذکورہ اندیشہ کبھی درست ثابت نہیں ہوا۔ اس میں صرف ایک استثناء ہے اور وہ کیسا بلانکا کا ہے جہاں میں ایک عرب کانفرنس کی دعوت پر اس میں شرکت کے لیے گیا تھا۔ ان لوگوں کے ساتھ روانہ ہوکر جے پور کے ہوٹل لکشمی ولاس پہنچا۔ یہاں روم نمبر ۵ میں میرے لیے ٹھہرنے کا انتظام تھا۔ یہ ہوٹل عام طریقے کے خلاف فطری انداز میں بنایا گیا ہے۔ کشادہ کمرہ اور ہر طرف کھلی جگہ اس کی امتیازی صفت تھی۔ اپنے فطری انداز کی بنا پر یہ ہوٹل مجھے پسند آیا۔ ہوٹل پہنچا تو وہاں اخبار والے اور ٹی وی والے انتظار کررہے تھے۔ ان کی فرمائش کے مطابق انھیں انٹرویو دیا۔ ای ٹی وی کے نمائندے مسٹر خورشید نے سوال کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ آپ پروبی جے پی ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ بات بالکل بے بنیاد ہے کہ میں پرو بی جے پی ہوں۔ میں صرف پروانسان ہوں۔ بھارت میرا دیش ہے۔ اور اس دیش کے ہر مرد اور عورت میرے بہن اور بھائی ہیں۔ میں سب کو ایک نظر سے دیکھتا ہوں۔ میں پولیٹکل آدمی نہیں ہوں بلکہ میں ایک صوفی ہوں۔ صوفیوں کا طریقہ صلح کل (peace with all) کا طریقہ ہے۔ کسی کو اپنا اور

‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues

Printed page