Al-Risala · December 2005 · page 509

چلنا ہوگا ساتھ سبھی کو

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۰۹

جہاں پڑھیں سبھی ملکر گِیتا اور کوران رام اور رحیم دونوں ہی ہوں بھگوان۔ جہاں نہ ہو کسی کو راجا اور رنک کا بھان بنے وہی ’دنیا کی شان‘ ہو وہی ’اپنا ہندوستان..... جیوتی پریم-سدبھاو کی لےکر اپنی منزل چنی ہوگی۔

بٹوارے کی ’بھول‘ بھلاکر نئی کہانی لکھنی ہوگی۔

چلنا ہوگا ساتھ سبھی کو

کرنا ہوگا مانوتا کا آہوان تبھی بنےگا پھر سے وہی ’اپنا ہندوستان‘ ۱۹ ستمبر کو صبح کی چائے کے بعد دوبارہ ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا جو دوپہر بعد تک جاری رہا۔ بہت سے ہندو اور مسلمان ملاقات کے لیے آئے۔ ان میں سے مدرسہ جمعیۃ القریش کے چار اساتذہ بھی تھے جن کے نام یہ ہیں: مولا نا بشیر احمد، مولا نا محمد ہاشم رضا اشرفی، مولانا محمد ظہیر عالم، مولا نا محمد منظور عالم۔ انھوں نے کہا کہ ہم لوگ ایک دینی مدرسے میں پڑھاتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ تم لوگ مسجد و مدرسے کا کام کرتے ہو اور اس دینی کام کا معاوضہ لیتے ہو۔ تم لوگ دین کو فروخت کر رہے ہو۔ انھوں نے کہا کہ اس پر ہم کو ندامت کا احساس رہتا ہے۔ میں نے کہا کہ جو لوگ ایسا کہتے ہیں بالکل غلط کہتے ہیں۔ آپ لوگ تعلیم دین کا معاوضہ نہیں لیتے بلکہ آپ لوگ اپنے وقت کا معاوضہ لیتے ہیں۔ اور یہ بلا شبہ جائز ہے۔ میں نے کہا کہ دورِ اول میں دین کے خادم کے لیے معاوضہ لینے کی بھی مثال ہے اور معاوضہ نہ لینے کی بھی مثال ہے۔ خلیفہ اول ابوبکر صدیق نے معاوضہ نہیں لیا اور خلیفۂ دوم عمر فاروق نے بقدر ضرورت معاوضہ لیا۔ اور بلا شبہ دونوں اسلام میں یکساں طور پر معیاری نمونے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ علماء مدرسے اور مسجد کی خدمت کرتے ہیں۔ اس کام میں ان کو جو کچھ

‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues

Printed page