Al-Risala · December 2005 · page 510

چلنا ہوگا ساتھ سبھی کو

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۱۰

دیا جاتا ہے اس سے ان کا خرچ پورا نہیں ہوتا۔ انھوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ حکومت لوگوں کا مالی تعاون کرے۔ میں نے کہا کہ ہم کو مالی وسعت کے لیے حکومت کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ ہم کو خدا کی طرف دیکھنا چاہیے۔ قرآن میں آتا ہے کہ: الیس اللہ بکاف عبدہ (الزمر : ۳۶) میں نے کہا کہ خدا جب کسی انسان کو پیدا کرتا ہے تو اسی کے ساتھ وہ اس کو خاص صلاحیتیں بھی عطا کرتا ہے۔ ہم میں سے ہر شخص اپنی اس خداداد صلاحیت کو دریافت کرے۔ میں نے کہا کہ لوگوں کو کوئی ہنر سیکھنا چاہیے۔ کوئی نئی زبان سیکھنا چاہیے تاکہ ہم اپنے آپ کو نئی ضرورتوں کے مطابق بنا سکیں۔ محنت اور دیانت داری کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ اس سے لوگوں کے اندر نیا عزم اور نیا حوصلہ پیدا ہوگا اور ان کے تمام مسائل فطری طور پر حل ہو جائیں گے۔

کچھ مسلمان ملاقات کے لیے آئے۔ انھوں نے کہا کہ آج کل میڈیا کے اثر سے سارے مسلمانوں کو آتھک وادی سمجھا جانے لگا ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ کچھ مسلمان آتھک واد میں لگے ہوئے ہیں۔ لیکن زیادہ مسلمان وہ ہیں جن کو ان چیزوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ شانتی کے ساتھ اپنے کام دھندے میں لگے ہوئے ہیں۔ پھر سارے مسلمانوں کو کس لیے بدنام کیا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بدنامی کی بات نہیں۔ یہ وہی بات ہے جو ہو رہی ہے۔ پھر میں نے کہا کہ اسلام میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ مجرم صرف وہی نہیں ہے جو خود جرم کر رہا ہے۔ بلکہ وہ بھی مجرم ہے جو جرم کرنے والوں کی مذمت نہ کرے۔ صرف الگ رہنا کسی کو بے قصور ثابت نہیں کرتا۔ اسلامی اصول کے مطابق ، آپ صرف اس وقت اس سے الگ قرار پائیں گے جب کہ آپ اس کے خلاف منھ سے بول کر یہ ظاہر کریں کہ آپ اس میں شریک نہیں ہیں۔

اسلم شیر خان جیولر ملاقات کے لیے آئے۔ وہ ایک سنجیدہ آدمی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ شمیم جے پوری کا ایک شعر مجھے پسند ہے اور اس کو لکھ کر میں نے اپنے آفس میں لگایا ہے۔ وہ شعر یہ ہے : یا مصلحت ہے کچھ کہ جو ملتا نہیں اسے یا پھر کمی ہے عجز و عبادت گزار میں ان سے میں نے پوچھا کہ بزنس میں کامیابی کا راز کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بزنس میں

‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues

Printed page