Al-Risala · December 2005 · page 512

چلنا ہوگا ساتھ سبھی کو

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۱۲

میں ہو جاتے۔ پھر آپ اکھنڈ بھارت میں اپنا ہندو ایجنڈ اکیسے چلاتے ۔ اس کا انھوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔

۱۹ دسمبر کو جے پور کی سڑکوں پر چلتے ہوئے ایک بینر دکھائی دیا۔ یہ جماعت اسلامی راجستھان کی طرف سے تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ جماعت اسلامی آج کل حقوق انسانی کی مہم چلا رہی ہے اور یہاں اس موضوع پر اس کی کانفرنس ہونے والی ہے۔ مجھے یاد آیا کہ ۱۹۵۰ کے زمانے میں، میں اعظم گڑھ میں تھا۔ اس وقت ہر ماہ ایک ضلعی اجتماع ہوا کرتا تھا۔ ان ضلعی اجتماعات میں اکثر مولانا صدر الدین اصلاحی کی تقریر ہوتی تھی۔ ایک تقریر میں انھوں نے کہا کہ اس دنیا میں مومن کی صرف ذمے داریاں ہیں۔ اس دنیا میں مومن کا کوئی حق نہیں۔ میں بھی اس اجتماع میں موجود تھا۔ یہ ابتدائی زمانہ کی بات ہے جب کہ جماعت اسلامی کی تحریک ایک فعال تحریک کی حیثیت رکھتی تھی۔ اب جب کہ جماعت اسلامی ایک بے روح ڈھانچہ بن چکی ہے تو اب اس کی بولی بھی بدل گئی ہے۔ جاننے والے اسے جانتے ہیں کہ حقوق انسانی (human right) کی تحریک چلانا صرف ایک سستی لیڈری ہے۔ کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ فرائض انسانی (human duties) کی تحریک چلائی جائے ۔ سماج کو فرض شناس (duty conscious) بنایا جائے ۔ حقوق شناس (right conscious) سماج میں صرف جنگ کلچر وجود میں آتا ہے نہ کہ ذمے دارانہ کلچر۔

تحریکیں دو قسم کی ہوتی ہیں ایک وہ جو ابدی اصول کی بنیاد پر چلائی جائے، دوسرے وہ جو لوگوں کے اندر چھپے ہوئے جذبات کی بنیاد پر چلائی جائے۔ نتیجہ خیز تحریک صرف پہلی قسم کی تحریک ہے۔ دوسری قسم کی تحریک سے کبھی کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔ اصول کی بنیاد پر تحریک چلانا بے حد مشکل کام ہے۔ اس میں لمبی مدت تک بظاہر کوئی نتیجہ نکلتا ہوا نظر نہیں آتا۔ اس کے برعکس، دوسری قسم کی تحریک عوامی جذبات کو غذا دینے والی ہوتی ہے۔ اس لیے اس کے ارد گرد بہت جلد بھیڑ اکٹھا ہو جاتی ہے۔ اسلامی تحریک احتساب خویش کی بنیاد پر اٹھتی ہے اور غیر اسلامی تحریک احتساب غیر کی بنیاد پر۔ ۱۰ دسمبر ۱۹۴۸ کو اقوام متحدہ کے تحت یونیورسٹی ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس کے منشور پر تمام

‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues

Printed page