چلنا ہوگا ساتھ سبھی کو
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۱۳
قوموں کے نمائندوں نے دستخط کیے تھے۔ اسی نسبت سے ہر سال ۱۰ دسمبر کو، حقوق انسانی کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ ۲۰۰۲ میں اس موقع پر جماعت اسلامی نے حقوق انسانی کا ہفتہ منایا۔ ملک میں مختلف مقامات پر جلسے کیے۔ آخر میں پانچ نکاتی قرارداد منظور کی گئی۔ وہ قرارداد یہ تھی : ۱۔ (الف) جو افراد اور گروہ فسادات کے اور انسانوں کے قتل عام کے مجرم ہوں، ان کو ملکی قانون کے تحت سخت سزا دی جائے، تاکہ ان کی حوصلہ شکنی ہو اور ملک میں امن و امان بحال ہو سکے۔ (ب) محکمہ پولیس میں شہریوں کے مختلف طبقات کو مناسب نمائندگی دی جائے اور فرضی مڈبھیڑ، زیر حراست اموات اور ملزموں کی تعذیب کے ہر واقعے کے ذمے دار پولیس اہل کاروں کو سخت سزا دی جائے۔ (د) کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کو روکا جائے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے عملے کو سخت سزا دی جائے ۔
۲۔ یہ جلسہ حکومت ہند کو توجہ دلاتا ہے کہ انصاف کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ انصاف کرکے اس کی رفتار تیز کی جائے، نیز جن افراد پر مقدمے چل رہے ہیں اور وہ پانچ سال سے زائد عرصہ جیل میں کاٹ چکے ہیں، انھیں رہا کیا جائے۔
۳۔ یہ جلسہ مطالبہ کرتا ہے کہ پوٹا کے تمام قیدیوں کو رہا کیا جائے اور unlawful activities act میں جو اضافے کیے گئے ہیں، انھیں واپس لیا جائے نیز پوٹا کا مزید استعمال بند کیا جائے۔ یہ جلسہ مطالبہ کرتا ہے کہ ایس آئی ایم پر لگی ناروا پابندی اٹھائی جائے اور تمام مقدمات واپس لیے جائیں۔ ۴۔ یہ جلسہ، عراق کے مظلوم عوام کے ساتھ اپنی ہم دردی اور یک جہتی کا اظہار کرتا ہے اور اپنے اس اعتماد کا اظہار کرتا ہے کہ اپنے ملک کی آزادی کے لیے ان کی جد و جہد اللہ کی نصرت و تائید سے بالآخر ان شاء اللہ کامیاب ہوگی۔ یہ اجلاس بین اقوامی فورموں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ امریکا کا عراق سے تسلط ختم کرنے کے لیے اپنے اثرات کا استعمال کریں۔ یہ اجلاس حکومت ہند سے مطالبہ کرتا ہے کہ عراق کے عوام کو آزادی دلانے کے لیے اپنے اثرورسوخ کا استعمال کرے۔
۵۔ یہ جلسہ، شرکاء اجلاس کے اس عہد اور عزم کا اظہار کرتا ہے کہ وہ خود کسی پر ظلم نہیں کریں گے،
‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues