چلنا ہوگا ساتھ سبھی کو
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۱۴
ظلم کو برداشت نہیں کریں گے، ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں گے اور مظلوموں کی حمایت کریں گے۔ (ماہنامہ: اللہ کی پکار، جنوری ۲۰۰۵ء، صفحہ ۷۔ ۱۰)
جماعت اسلامی نے اپنا ہفتہ حقوق انسانی کے نام پر منایا تھا۔ مگر اس میں جو تجویزیں پاس کی گئیں وہ حقوق مسلم سے تعلق رکھتی ہیں، نہ کہ حقوق انسانی سے۔ اس تضاد میں موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلم رہنما مبتلا ہیں۔ حقوق کے نام سے وہ صرف مسلم حقوق کو جانتے ہیں۔ یہ سوچ اتنا زیادہ غالب ہے کہ اگر کوئی حقوق انسانی کا نام لیتا ہے تو عملاً اس کی مراد اس سے حقوق مسلم ہوتی ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ انسانیت عامہ ان کا کُنسرن (concern) نہیں۔ ان کے نزدیک احترام سے مراد احترام مسلم ہوتا ہے۔ وہ حقوق کے نام سے حقوق مسلم کو جانتے ہیں۔ ان کی تقریریں اور تحریریں مسلمانوں کے خلاف ظلم سے بھری ہوتی ہیں۔ لیکن خود مسلمان دوسروں کے خلاف جو ظلم کرتے ہیں اس سے ان کی تقریریں اور تحریریں خالی ہوتی ہیں۔ قرآن کی زبان میں وہ ”تطفیف‘‘ ہے، یعنی اپنی رعایت تو خوب جاننا مگر دوسروں کی رعایت سے بے خبر رہنا۔
کچھ نوجوانوں کو نصیحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ انسان کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ اس کے دل میں سب کے لیے پیار ہو۔ کامیابی یقینی ہے بشرطیکہ آپ صبر کے ساتھ جدوجہد کر سکیں۔ ایک مسلمان نے کہا کہ ہم لوگوں کی عورتیں گھروں میں رہتی ہیں وہ باہر جا کر کوئی کام نہیں کر سکتیں۔ کیا اسلام کا حکم یہی ہے۔ میں نے کہا کہ اسلام میں صحابہ کو ماڈل کا درجہ دیا گیا ہے۔ اور صحابہ کی خواتین گھر کے باہر نکلتی تھیں اور باہر کے کام کرتی تھیں۔ یہی صحیح اسلامی نمونہ ہے۔ عورتوں کو ضروری حدود کے اندر رہتے ہوئے ہر وہ کام کرنا چاہیے جو شریعت میں جائز ہے۔ پردے کے سلسلے میں نے کہا کہ فقہاء نے عورت کو وجہ، کفّین اور قَدَمین کے کھولنے کی اجازت دی ہے۔ عورتوں کو سادہ اور ڈھیلا کپڑا پہننا چاہیے۔ ان کو بناؤ سنگار سے بچنا چاہیے۔ وہ ہر ضروری اور جائز کام باہر جا کر کر سکتی ہیں۔ فاروق احمد خاں آئی ایس افسر ملاقات کے لیے آئے۔ انھوں نے کہا کہ آتنگ و آداب ایک انڈسٹری بن چکا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کا کہنا درست ہے مگر کون سی چیز ہے جو انڈسٹری نہ
‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues