چلنا ہوگا ساتھ سبھی کو
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۱۵
ہو تا ہم یہ ایک نا قابل معافی جرم ہے کہ ایک غیر اسلامی کام کو اسلام کے نام پر کیا جائے۔ مثلاً مادی اور قومی لڑائی چھیڑی جائے اور اس کو جہاد فی سبیل اللہ بتایا جائے۔
اس سفر میں مجھے ایک ذاتی تجربہ کا ہوا جس کو ثنائی طرز فکر (dichotomous thinking) کہا جاتا ہے۔ یعنی چیزوں کو بلیک اینڈ وائٹ (black & white) میں دیکھنا اور تیسرے انتخاب (third option) سے بے خبر رہنا۔ بجے پور کے اس سفر کے دوسرے دن (۱۹ دسمبر) کو اتوار تھا۔ ہمارے دہلی کے ساتھیوں کا اصرار تھا کہ میں اتوار کو دو پہر تک دہلی واپس آجاؤں تا کہ اتوار کی کلاس حسب معمول ہو سکے ۔ مگر اس وقت میرے ذہن میں صرف دو صورتیں تھیں۔ ایک ہوائی جہاز کا سفر اور دوسرے ٹرین کا سفر۔ ہوائی جہاز سے جانے میں دہلی ایئر پورٹ کی کہر (fog) کا مسئلہ تھا۔ اور ٹرین سے جانے کی صورت میں یہ مسئلہ تھا کہ واپسی میں ٹرین تاخیر سے شام کو دہلی پہنچتی تھی۔ میرے ذہن میں اس وقت صرف دو ہی صورتیں تھیں۔ یا دونوں طرف جہاز سے جانا یا دونوں طرف ٹرین سے سفر کرنا۔ بعد کو سمجھ میں آیا کہ یہاں ایک تیسری صورت بھی تھی اور اس کو اختیار کرنے کی صورت میں باسانی یہ ممکن تھا کہ میں اتوار کو دو پہر تک دہلی واپس آجاؤں اور معمول کے مطابق کلاس کر سکوں۔ تیسری صورت یہ تھی—دہلی سے ۱۸ ستمبر کی صبح کو ٹرین سے بجے پور جانا، اور ۱۹ ستمبر کی صبح کو جہاز کے ذریعے دہلی واپس آنا۔ مگر یہ تیسری صورت اس وقت میرے ذہن میں نہ آسکی۔
مکیش میناراجستھانی نے بتایا کہ راجستھانی کلچر یہ ہے کہ ہمارے یہاں مہمان آ جاتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہمارے پاس بھگوان آ گیا ہے۔ مجھے اپنے اس سفر میں اس کا ذاتی تجربہ ہوا۔ یہاں کے لوگوں کی طرف سے جس عزت اور حسن سلوک کا تجربہ ہوا وہ بہت غیر معمولی تھا۔ مکیش مینا سے گفتگو کے بعد معلوم ہوا کہ یہ اسی ریگستانی ریاست کا کلچر ہے جو اس سفر کے دوران میرے حصے میں آیا۔ میں نے غور کیا کہ راجستھان میں اس قدیم کلچر کا سبب کیا ہے۔ میں نے سوچا تو یاد آیا کہ میرے بچپن میں خود میرے گاؤں میں یہ کلچر موجود تھا۔ مگر اب اختلافات کے نتیجے میں یہ کلچر ٹوٹ چکا ہے۔ غالباً راجستھان میں ایسا ہوا کہ یہ ریاست چونکہ ایک ریگستانی ریاست تھی۔ یہاں پانی کی کمی تھی۔ اس کا ایک نتیجہ یہ ہوا
‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues