Al-Risala · December 2005 · page 516

چلنا ہوگا ساتھ سبھی کو

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۱۶

کہ یہاں صنعتیں قائم نہ ہوسکیں۔ چنانچہ راجستھان میں باہر کے لوگ نہیں آئے۔ جو کچھ ہوا وہ صرف یہ کہ یہاں کے کچھ لوگ باہر چلے گئے۔ اس واقعے کی بنا پر ایسا ہوا کہ راجستھان کا روایتی کلچر اپنی قدیم حالت میں محفوظ رہا۔

۱۹ ستمبر کی شام کو جے پور سے دہلی واپسی تھی۔ ساتھیوں کے ہمراہ ہوٹل سے روانہ ہوا۔ مشورے کے مطابق یہ طے ہوا کہ اسٹیشن جاتے ہوئے راستہ بدل کر سفر کیا جائے اور جے پور کے مختلف اہم مقامات کو دیکھتے ہوئے اسٹیشن پہنچیں۔ اس طرح جے پور کے اہم اور تاریخی مقامات پر ایک نظر ڈالنے کا موقع ملا۔ جے پور ایک خوبصورت شہر ہے۔ یہاں سیاح کافی تعداد میں آتے ہیں۔ جے پور کو خوبصورت بنانے میں سر مرزا اسماعیل کا بہت بڑا دخل ہے۔ ۱۹۴۷ سے پہلے وہ جے پور کے ایڈمنسٹریٹر تھے۔ سر مرزا اسماعیل اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور اسی کے ساتھ انتظام اور منصوبہ بندی کی ان کے اندر غیر معمولی صلاحیت تھی۔ سر مرزا اسماعیل کی یہ صلاحیت جے پور کی شہری تعمیر میں بہت کام آئی۔ انھوں نے اس شہر کو ہر اعتبار سے ایک خوبصورت شہر بنا دیا۔ جے پوری کی خوبصورتی کی ایک جھلک میں نے واپسی کے سفر میں دیکھی۔ جے پور راجستھان کی راجدھانی ہے۔ جے پور میں مختلف قسم کی صنعتیں ہیں۔ جیولری یہاں کی مشہور صنعت ہے۔ اس صنعت سے یہاں کے باشندوں کی بڑی تعداد جڑی ہوئی ہے۔ جے پور ایک باحصار شہر (walled city) ہے۔ یہ قدیم دیوار اب بھی موجود ہے۔ البتہ اس کے باہر نیا جے پور دور تک آباد ہو گیا ہے۔

جے پور کی بنیاد ۱۷۲۷ میں ڈالی گئی۔ اس سے پہلے انبر یہاں کی راجدھانی تھا۔ جے پور پنک سٹی(Pink City) کے نام سے مشہور ہے۔ اس کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں اکثر سیدھی سڑکیں بنائی گئی ہیں۔ راج کا محل اب بھی یہاں کی خاص عمارتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ دوسری کچھ خاص عمارتیں یہ ہیں: ہوا محل، رام باغ پیلیس، نہر گڑھ، ٹائیکر فورٹ اور میوزیم، وغیرہ۔ راجستھان یونیورسٹی بہت بڑی یونیورسٹی ہے۔ وہ ۱۹۴۷ میں قائم کی گئی۔ جے پور شہر کے اہم مقامات کو دیکھتے ہوئے ریلوے اسٹیشن پہنچا۔ اسٹیشن صاف ستھرا نظر آیا۔ جو لوگ مجھے پہنچانے کے لیے آئے تھے ان سے

‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues

Printed page