Prospects and Challenges.
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۱۷
دیر تک گفتگو ہوتی رہی ۔ ٹرین تقریباً آدھ گھنٹہ لیٹ ہر کر پلیٹ فارم پر آئی۔ اس تاخیر کا راز بعد کو معلوم ہوا۔ ریزرویشن کے مطابق، میں اپنے کوچ میں داخل ہوگیا۔ ایگزیکٹیو کلاس میں آج خلاف معمول زیادہ مسافر نظر آئے۔ ٹرین روانہ ہوئی تو اندازہ ہوا کہ اس میں کئی مسلم افراد سفر کر رہے تھے۔ بعد کو معلوم ہوا کہ یہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے سترہ ممبران تھے جو لوک سبھا کے اسپیکر کی دعوت پر دہلی آئے تھے۔ یہ لوگ آج صبح اجمیر گئے تھے تاکہ وہ لوگ وہاں خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ کی زیارت کرسکیں ۔ وہاں سے فارغ ہوکر اب یہ لوگ دوبارہ دہلی جارہے تھے۔
معلوم ہوا کہ ان میں سے کئی ممبران مجھ سے واقف تھے۔ کچھ ایسے بھی تھے جو میری کتابیں پڑھے ہوئے تھے۔ ایک صاحب نے میرے پاس آکر سنجیدہ انداز میں کہا: ”میری چھ بیٹیاں ہیں۔ ایک کی شادی ہوچکی ہے۔ آپ دعا فرمائیں کہ باقی کا بھی اچھا رشتہ ہوجائے ۔ خواجہ غریب نواز کے یہاں میں نے اپنی درخواست لگادی ہے“ معلوم ہوا کہ ان لوگوں کا لکچ حکومت کی طرف سے اجمیر میں رکھا گیا تھا۔ لُنج سے فارغ ہونے میں کچھ دیر ہوگئی اس لیے ٹرین کو لیٹ کردیا گیا۔ میرے ساتھ کچھ پرچے تھے۔ راستے میں ان کو پڑھوا کر سنا۔ انگریزی ہفت روزہ ریڈینِس ( ۱۹- ۲۵ دسمبر ۲۰۰۲ ) میں ایک تفصیلی مضمون شامل تھا۔ اس کا عنوان یہ تھا: Islamic Resurgence in 21st cetury:
Prospects and Challenges.
اس مضمون میں تفصیل سے بتایا گیا تھا کہ اسلام بہت تیزی سے ساری دنیا میں پھیل رہا ہے۔ لوگ بڑی تعداد میں اسلام قبول کر رہے ہیں۔ مضمون نگار نے اس سلسلے میں مختلف حوالے دیے تھے۔ انھوں نے لکھا تھا کہ آج دنیا کے ہر چار آدمی میں سے ایک مسلمان ہے۔ مغربی جرائد سے نقل کیے ہوئے چند جملے یہ تھے:
Islam is the fastest growing religion in the world. The religion of Islam is growing faster than any other religion in the world.
‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues