Prospects and Challenges.
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۱۸
ساری دنیا میں اسلام کی تیز رفتار اشاعت کی بات بالکل درست ہے۔ مگر مضمون نگار نے اس واقعے کا جو سبب بتایا تھا وہ درست نہ تھا۔ انھوں نے لکھا تھا کہ بیسویں صدی میں مسلم دنیا میں کچھ مفکر پیدا ہوئے ۔ مثلاً علامہ اقبال ، سید مودودی ، حسن البنا، سید قطب وغیرہ۔ ان صاحبان کا لٹریچر مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو کر چھپا اور وہ جنگ کی آگ کی طرح ہر جگہ پھیل گیا :
مضمون میں یہ خیال ظاہر کیا گیا تھا کہ یہ مسلم مفکرین کا لٹریچر ہے جس کی وجہ سے اسلام دنیا میں پھیل رہا ہے۔ یہ بات خلاف واقعہ ہے۔ مذکورہ لٹریچر تمام تر مسلمانوں کے لیے لکھا گیا۔ وہ صرف مسلم ذہن کو مخاطب کرتا تھا۔ وہ نہ غیر مسلموں کے لیے لکھا گیا اور نہ وہ غیر مسلم ذہن کو ایڈریس کرتا تھا۔ یہ لٹریچر صرف مسلمانوں میں پڑھا گیا۔ ایسی حالت میں اس کا کوئی سوال ہی نہیں کہ ان حضرات کے لٹریچر کی وجہ سے یہ غیر مسلم اسلام میں داخل ہورہے ہیں۔ ان نو مسلموں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ وہ لوگ تھے جو اپنے مذہب سے غیر مطمئن تھے۔ انھیں سچائی کی تلاش تھی۔ پھر انھوں نے قرآن کو پڑھا۔ قرآن نے ان کی فطرت کو مطمئن کیا اور وہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ کسی نے اپنے جذبہ تلاش کے تحت بطور خود انٹرنیٹ سے یا کسی اور ذریعے سے معلومات حاصل کیں اور پھر اسلام قبول کر لیا۔ اسلام کی اشاعت کے لیے دعوت پر مبنی لٹریچر درکار تھا۔ مگر مذکورہ حضرات کی لٹریچر میں دعوت کا کوئی تصور ہی موجود نہ تھا۔ ان تمام حضرات کا لٹریچر جہاد اور سیاست پر مبنی لٹریچر تھا۔ اس نے مسلمانوں کے اندر یہ جذبہ پیدا کیا کہ وہ مسلمانوں کی سیاسی عظمت کو واپس لائیں۔ چنانچہ اس انقلابی لٹریچر سے متاثر ہونے والے مسلمان جہاد میں اور سیاسی سرگرمیوں میں مشغول ہوگئے۔ اس انقلابی لٹریچر کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان یا تو مسلح جہاد میں مشغول ہیں یا وہ ان کی تائید کرتے ہیں۔ اس لٹریچر کا یہ نقصان ہوا ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں ہر جگہ سیاسی طرز فکر غالب آگیا۔ دعوتی طرز فکر ان کے اندر پیدا ہی نہ ہو سکا جو اسلام کی اشاعت کے لیے ضروری ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues