Prospects and Challenges.
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۱۹
جے پور میں ایک بڑا مدرسہ ہے جس کا نام جامعۃ الہدایہ ہے۔ اس مدرسے کی خصوصیت یہ ہے کہ اس نے قدیم علوم کے ساتھ جدید علوم کو اپنے نصاب میں شامل کیا ہے۔ اس نقشے پر وہ کامیابی کے ساتھ چلایا جارہا ہے۔ اس ادارے کی طرف سے ایک ماہنامہ نکلتا ہے جس کا نام ہدایت ہے۔ اس کا شمارہ (نومبر ۔ دسمبر ۲۰۰۲) دیکھنے کا موقع ملا۔ اس میں ایک مضمون اس عنوان کے تحت چھپا تھا: سادگی مسلم کی دیکھ اوروں کی عیاری بھی دیکھ۔ صاحب مضمون نے جو باتیں لکھی تھیں ان میں سے ایک یہ تھی: ’’تیونس کے صدر زین العابدین بن علی وائٹ ہاؤس کے دورے سے واپس آئے۔ اس کے بعد تیونس میں منعقد ہونے والی عرب چوٹی کانفرنس (۲۲۔ ۲۳ مئی ۲۰۰۲) میں تیونس کے صدر نے سارے عربوں سے اپیل کی کہ وہ کانفرنس کے پلیٹ فارم سے شہات پسندی کی کارروائی کی مذمت کریں‘‘ (صفحہ ۲۵)
صاحب مضمون نے تیونس کے صدر کی اس تجویز کی سخت مذمت کی تھی۔ اور اس کو اسرائیل کے حق میں ایک مؤیدانہ کوشش قرار دیا تھا۔ انھوں نے اس تجویز کو نفرت اور حقارت کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ تیونس کے صدر نے اپنی تجویز میں جس چیز کی مذمت کی تھی وہ خودکش بمباری (sucide bombing) تھی ۔ مگر اس کو مضمون میں شہادت طلبی کا نام دیا گیا ہے۔ عرب علماء اس کو استشہاد کہتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ عین وہی چیز ہے جس کو تحلیل الحرام کہا گیا ہے۔ یعنی ایک حرام فعل کو خوبصورت نام دے کر اس کو حلال بتانا۔ میرے نزدیک یہ دہر اجرم ہے۔ ایک یہ کہ خودکشی کا حرام فعل کرنا اور دوسرے اس حرام فعل کو استشہاد اور شہادت طلبی کا نام دینا۔ یہ بلاشبہ کسی قوم کے زوال کی آخری علامت ہے۔ ماہنامہ میثاق (دسمبر ۲۰۰۲) میں ایک مضمون چھپا ہوا تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ اقامت دین کی جدوجہد فرض عین ہے (صفحہ ۸۷) موجودہ زمانے کے کچھ مسلم مفکرین بار بار یہ بات کہتے رہے ہیں مگر اس میں ایک شدید مغالطہ پایا جاتا ہے۔ یہ بات صحیح ہے کہ سورہ الشوریٰ کی آیت نمبر ۱۳ کے مطابق، الدین کی اقامت فرض عین ہے۔ مگر یہاں دین کی اوقات سے مراد غیر سیاسی دین کی اقامت ہے نہ کہ سیاسی دین کا جھنڈا بلند کرنا۔ ان انقلابی مفکرین نے یہ نا قابل معافی جسارت کی ہے
‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues