Prospects and Challenges.
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۲۰
کہ انہوں نے قرآن سے اقامت دین کا لفظ لیا اور اس کو خود ساختہ طور پر اقامت سیاست کے بہم معنی بنایا اور پھر دعویٰ کیا کہ اس قرآنی آیت کے مطابق، سیاسی نظام کی اقامت فرض عین ہے۔ یہ بلاشبہہ عین وہی گمراہی ہے جس کو قرآن میں یحرفون الکلم عن مواضعه (الننساء: ۴۶) کہا گیا ہے۔ یعنی کلام کو اس کے موقع محل سے پھیر دینا، کسی بات کی غلط تشریح کر کے اس سے اپنا خود ساختہ مفہوم نکالنا۔ قرآن میں اقیموا الدین (الشوریٰ: ۱۳) سے مراد واضح طور پر غیر سیاسی احکام کی اقامت ہے۔ کلام کے سیاق کی بنا پر تمام مفسرین نے لکھا ہے کہ یہاں اقامت دین سے مراد ان احکام الہی کی کامل پیروی ہے جو ایک فرد سے ہر حال میں مطلوب ہوتے ہیں۔ گویا اس آیت میں اقامت سے مراد انفرادی احکام کی اطاعت ہے۔ جہاں تک اجتماعی اور سیاسی احکام کا تعلق ہے وہ اس آیت میں مذکور نہیں۔ کلام کے سیاق و سباق سے یہی ثابت ہوتا ہے اور یہی بلا استثناء تمام مفسرین کی رائے ہے۔ ۱۹ دسمبر ۲۰۰۴ کی شام کو میں دہلی پہنچا۔ شتابدی ایکسپریس جس بجے پور میں آدھ گھنٹے لیٹ تھی۔ مگر راستے میں اُس نے میک اپ کیا اور دہلی کے ریلوے اسٹیشن پر تقریبا اپنے ٹھیک وقت پر پہنچی۔ میں نے سوچا کہ اس میں بھی ایک سبق ہے۔ آدمی اگر اپنی زندگی کے سفر کا آغاز کرنے میں دیر کر دے تو اس میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ خدا نے اپنی دنیا میں ایسے امکانات رکھے ہیں جن کو استعمال کر کے آدمی منزل پر ٹھیک وقت پر پہنچ سکے۔ آغاز سفر میں کمی کی تلافی وہ تکمیل سفر کے وقت کرلے۔ زندگی میں اصل اہمیت خاتمے کی ہے، نہ کہ آغاز کی۔
حدیث میں آیا ہے: وإنما الأعمال بالخواتيم (البخاری، کتاب القدر) یعنی اعتبار خاتمے کا ہے۔ یہ روایت ایک مخصوص واقعے کے پس منظر میں آئی ہے۔ مگر اس کا ایک عمومی پہلو بھی ہے۔ اور وہ وہی ہے جس کا اوپر ذکر ہوا۔ کسی بھی معاملے میں اصل دیکھنے کی چیز اس کا آغاز نہیں ہے بلکہ اس کا اختتام ہے۔ یہ دراصل اختتام ہے۔ جو یہ بتاتا ہے کہ عمل درست تھا یا وہ درست نہ تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues