Prospects and Challenges.
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۲۱
سوال
صحیح البخاری، کتاب الفتن میں یہ روایت آئی ہے: مَن رأی من أمیره شیئاً یکرهه فليصبر علیه، فإنه من فارق الجماعة شبراً فمات إلا مات میتة جاهلیة (فتح الباری، جلد ۱۳، صفحہ ۷) یعنی جو شخص اپنے امیر میں کوئی چیز دیکھے جو اس کو ناگوار ہو تو وہ اس پر صبر کرے۔ کیوں کہ جو شخص جماعت کو ایک بالشت کے برابر بھی چھوڑے اور اسی حال میں مر جائے تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔ ایک دوسری روایت (صحیح مسلم، کتاب الامارة) میں یہ حدیث الفاظ کے تھوڑے فرق کے ساتھ آئی ہے جس میں ”جماعت“ کے بجائے ”بیعت“ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس حدیث کو لے کر مسلمانوں میں کئی جماعتیں بنائی گئیں مثلاً جماعت اسلامی اور الاخوان المسلمون وغیرہ۔ ان بانیاں جماعت نے کہا کہ جماعتی زندگی لازمی طور پر ضروری ہے۔ انھوں نے یہ تاثر دیا کہ لوگ یا تو ہماری جماعت میں شامل ہو جائیں یا کوئی اور جماعت بنا کر اس کے تحت جماعتی زندگی گذاریں۔ جو لوگ ایسا نہ کریں، ان کا وہ انجام ہوگا جو حدیث میں ان الفاظ میں آیا ہے: مَن شَدَّ شُذَّ إِلَى النّار (الترندی، کتاب الفتن) یعنی جو شخص جماعت سے الگ ہو وہ آگ میں جائے گا۔ اس سلسلے میں آپ کی کیا رائے ہے (محمد ذکوان ندوی، نئی دہلی) جواب حدیث کی یہ تشریح سخت گمراہ کن ہے۔ اس حدیث میں جس بیعت کا ذکر ہے وہ بیعت جماعتی نہیں بلکہ وہ بیعت سیاسی ہے۔ حدیث کا یہ مفہوم بخاری کی دوسری روایت سے واضح ہورہا ہے۔ دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں: مَن کره من أميره شیئاً فليصبر، فإنه من خرج من السلطان شبراً، مات میتة جاهلية (فتح الباری، جلد ۱۳، صفحہ ۷) یعنی جس کو اپنے امیر کی کوئی چیز ناگوار ہو تو وہ صبر کرے۔ کیوں کہ جو شخص سلطان سے ایک بالشت بھی دور ہوا وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔ دوسری روایت کے الفاظ سے واضح ہورہا ہے کہ ان روایتوں میں التزام جماعت یا بیعت جماعت سے مراد سیاسی التزام یا سیاسی بیعت ہے نہ کہ جماعتی التزام یا جماعتی بیعت۔ جن لوگوں نے جماعت بنا کر اس سے وابستگی کو نجات کا ذریعہ بتایا، انھوں نے یہ غلطی کی کہ اُس روایت کو لے لیا جس میں
‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues