Prospects and Challenges.
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۲۲
جماعت کا لفظ آیا ہے، اور اس روایت کو چھوڑ دیا جس میں سلطان کا لفظ آیا ہے۔ اس قسم کی حدیثوں کا تعلق دور فتنہ سے ہے۔ یعنی ایسے زمانے سے جب کہ لوگ سیاسی حا کم کو لے کر اختلاف کی باتیں کریں اور حاکم کی اطاعت پر راضی نہ ہوں۔ ایسے موقع کے لیے مختلف حدیثوں میں جو بات آئی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک حاکم کی حکومت جب قائم ہو جائے تو امت کے ہر فرد کو اس کی اطاعت کرنا چاہیے۔ سیاسی شکایتوں کو لے کر اس کے خلاف خروج جائز نہیں۔ سیاسی حکمراں سے خروج کی یہ حرمت کوئی حرمت اعتقادی نہیں ہے، بلکہ وہ حرمت سیاسی ہے۔ جب ایک حاکم کی حکومت قائم ہو جائے اور اجتماعی معاملات میں اس کا کنٹرول ہو جائے تو ایسے وقت میں اس سے خروج کرنا، نتیجے کے اعتبار سے صرف کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) ثابت ہوگا۔ حدیث کے مطابق، ایسے حالات میں کسی شخص کے لیے جو انتخاب ہے وہ صرف دو میں سے ایک کا ہے۔ یا تو وہ صورت حال پر صبر کرے یا وہ مکمل طور پر پر امن رہتے ہوئے خیر خواہانہ نصیحت کا طریقہ اختیار کرے۔ ان دو کے علاوہ تیسرا انتخاب لینا، یعنی اصلاح سیاست کے نام پر وقت کے حکمراں سے ٹکرانا، اسلام میں سراسر حرام ہے۔ حدیث کے اس مفہوم کی روشنی میں دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ سیاسی جماعت بنانے والوں نے یہ سنگین غلطی کی کہ جس فعل سے پیغمبر نے منع کیا تھا اس کو جائز کرنے کے لیے ایک اور ممنوع فعل کا ارتکاب کر لیا۔ یہ ممنوعیت نتیجے کے اعتبار سے تھی۔ چنانچہ واقعات بتاتے ہیں کہ ان نام نہاد اسلام پسندوں نے جن ملکوں میں اسلامائزیشن کی تحریک چلائی وہ عملاً ڈی اسلامائزیشن کے ہم معنی بن گئی۔
سوال
حدیث (عليكم بالسواد الأعظم، مسند احمد، ۲ / ۲۸۷) کو لے کر یہ کہا جاتا ہے کہ سوادِ اعظم ہمیشہ حق پر ہوتا ہے۔ اس لیے آدمی کو سوادِ اعظم کا اتباع کرنا چاہیے۔ آپ اس کی وضاحت کریں (محمد ذکوان ندوی) جواب اس حدیث میں سوادِ اعظم سے مراد اکثریت ہے۔ یعنی اکثریت کا ساتھ دو۔ یہ ساتھ دینا بطور
‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues