Al-Risala · December 2005 · page 523

Prospects and Challenges.

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۲۳

عقیدہ نہیں، بلکہ وہ عملی ضرورت کے طور پر ہے۔ جب کسی معاملے میں مسلمانوں کی اکثریت ایک طرف ہو جائے تو اُس وقت ایسا کرنا درست نہیں کہ آدمی حق اور ناحق کی بحث چھیڑ کر لوگوں کو اس کے خلاف بھڑکائے اور اکثریت سے جُدا ہو جائے۔ اجتماعی معاملات میں یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ آئیڈیل ازم کے مطابق، کیا درست ہے اور کیا درست نہیں۔ بلکہ اس کے بجائے یہ دیکھنا چاہیے کہ عملی طور پر کیا ممکن ہے اور کیا ممکن نہیں۔ ایسے موقع پر آدمی کو پریکٹیکل بن جانا چاہیے نہ کہ آئیڈیلسٹ۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ سوادِ اعظم ہمیشہ حق پر ہوتا ہے اس لیے اس کا ساتھ دینے کا حکم دیا گیا۔ یہ ایک خلافِ واقعہ بات ہے، ایسا سمجھنا درست نہیں۔ اجتماعی معاملات میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک حکم بیان کیا جاتا ہے مگر وہ حکم عقیدے کی بنا پر نہیں ہوتا بلکہ وہ عملی ضرورت کی بنا پر ہوتا ہے۔ یہی معاملہ علیکم بالسواد الأعظم کا ہے۔ یہ حکم عملی مصلحت کی بنا پر دیا گیا ہے نہ کہ اعتقادی مسئلے کی بنا پر۔ یہی معاملہ اُس مشہور قولِ رسول کا ہے جس میں آپ نے خلافت کی بابت فرمایا تھا: الأئمة من قريش۔ اجتماعی نزاعات کے موقع پر آدمی کو زیادہ سے زیادہ جس حد تک جانے کی اجازت ہے وہ ناصحانہ قول ہے نہ کہ تشدّدانہ اقدام۔

اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ إنّ من أمتی لا تجتمع على ضلالة (ابن ماجه، کتاب الفتن) میری امت گمراہی پر مجتمع نہیں ہوگی۔ اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ امت کے افراد جب بڑی تعداد میں کسی بات پر متحد ہو جائیں تو وہ بات درست قرار پاۓ گی ۔ بلکہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ امتِ مسلمہ میں ایسا کبھی نہیں ہوگا کہ امت کے تمام افراد گمراہی کی ایک بات پر متفق ہو جائیں ۔ امت میں ہمیشہ ایسے کچھ افراد ضرور موجود رہیں گے جو گمراہی کو گمراہی سمجھیں اور اس کا اعلان کریں۔ اس حدیث کو عام طور پر امت مسلمہ کی فضیلت کے معنی میں لیا جاتا ہے۔ اس قسم کا عقیدہ بالکل غلط ہے۔ اس حدیث کا مطلب دراصل یہ ہے کہ امت مسلمہ کو خدا کی طرف سے جو کتاب دی گئی ہے وہ چوں کہ ایک ایسی کتاب ہے جو ہمیشہ محفوظ رہے گی ۔ اس لیے ایسا کبھی نہیں ہوگا کہ ساری امت گمراہی میں پڑ جائے ۔ امتوں کی گمراہی کا سبب ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ خدا کی کتاب اپنی محفوظ حالت میں ان کے

‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues

Printed page