Prospects and Challenges.
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۲۴
پاس نہ رہے۔ کتاب اللہ کی عدم محفوظیت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سچائی کو جاننے کے لیے ریفرنس بک موجود نہیں ہوتی۔ ریفرنس بک کے محفوظ نہ ہونے کی وجہ سے یہ ممکن نہیں رہتا کہ اختلاف کے وقت اس کا تعین کیا جائے کہ سچائی کیا ہے۔ لیکن جب ریفرنس بک محفوظ حالت میں موجود ہو تو یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ اختلاف کے وقت اس کو دیکھ کر صحیح نقطہ نظر معلوم کیا جا سکے۔ قرآن کی یہی صفت، آخری امت کو اس سے بچائے گی کہ اس کے تمام افراد گمراہ ہو جائیں، اور کوئی ایک فرد بھی ایسا نہ ہو جو سچائی کو جاننے والا ہو۔ سوال الرسالمہ اگست ۲۰۰۵ کے صفحہ ۲۹ سوال نمبر ۶ کے حوالے سے عرض ہے: حضرت موسیٰ نے بھی ایک بگڑی ہوئی مسلم قوم کو ایک علیحدہ ملک میں آباد کیا۔ اور تقسیم ملک کی مانگ کرنے والوں نے بھی تقریباً یہی کچھ کیا۔ آپ ایک کو صحیح قرار دیتے ہیں، اور دوسرے کو غلط ، وجہ کیا ہے۔ کیا یہ وجہ ہے کہ ایک کام ایک اولوالعزم پیغمبر حضرت موسیٰ کے ذریعے انجام پایا، اور دوسرا چند مسلمانوں کے ہاتھوں۔ (غلام قادر، سری نگر)
جواب
آپ کا یہ قیاس ، قیاس مع الفارق ہے۔ قدیم مصر میں بنی اسرائیل ایک بلائے عظیم میں مبتلا تھے، جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: یذبحون أبناءكم ويستحيون نساءكم (البقرہ: ۴۹) ہندوستان میں جب اقبال اور جناح جیسے لوگوں نے تقسیم کی مانگ کی تو اُس وقت ہندوستان میں ہرگز یہاں قدیم مصر جیسے حالات نہ تھے۔ اگر کوئی شخص ایسا کہتا ہے تو بلا شبہ وہ خلاف واقعہ بات کہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اُس وقت کے مسلمانوں کو ہندوستان میں مکمل مذہبی آزادی حاصل تھی۔ ایسی حالت میں تقسیم ملک کا مطالبہ کرنا، ایک ناجائز فعل تھا، نہ کہ اُسوہ موسیٰ کی پیروی۔ دوسری بات یہ کہ حضرت موسیٰ سارے بنی اسرائیل کو مصر سے باہر لے گیے۔ جب کہ تقسیم کے لیڈر ہندوستان کے مسلمانوں کو کہیں باہر نہیں لے جارہے تھے بلکہ وہ صرف ایک ملک کو دو ملک میں بانٹ رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کے عمل کا اُسوۂ موسیٰ سے کوئی تعلق نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues