Al-Risala · December 2005 · page 525

Prospects and Challenges.

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۲۵

تیسری بات یہ کہ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کو ایک صحرا میں تربیت کے لیے لے گئے تھے۔ جب کہ تقسیم کے لیڈر فرضی طور پر اپنے بنائے ہوئے پاکستان میں ایسی صورت پیدا کر رہے ہیں جہاں مسلمان فرقوں میں بٹ کر آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگیں۔

آپ ایک کشمیری مسلمان ہیں۔ کشمیری مسلمانوں کے لیے ایسا کہنا اور بھی زیادہ بے معنی ہے۔ آپ لوگوں نے کشمیر کو ہندوستان سے الگ کرنے کے لیے ہندوستان سے لڑائی چھیڑ دی۔ حالاں کہ حضرت موسیٰ نے قدیم مصر میں ایسا نہیں کیا کہ مصر کے ایک خطے کو بقیہ ملک سے الگ کرنے کے لیے فرعون سے لڑائی چھیڑ دیں۔ اس کے برعکس، حضرت موسیٰ نے یہ کیا کہ بنی اسرائیل کو لے کر ملک کے باہر، صحرائے سینا میں چلے گئے۔ اس لحاظ سے آپ لوگوں کے لیے حضرت موسیٰ کے نمونے کی پیروی یہ ہوگی کہ آپ کشمیر کو چھوڑ کر چلے جائیں اور کسی بیرونی علاقے میں آباد ہو جائیں۔ سوال میں ایک طالب علم ہوں اور چھ مہینوں سے الرسالہ پڑھ رہا ہوں۔ میں نے پایا کہ آپ نے غیرمسلموں میں اسلام کی دعوت کو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ پیش کیا، اور امت مسلمہ کو اس کا بھولا ہوا مقصد یاد دلایا ہے۔ اس حقیقت کو قبول کر کے میں نے دعوت الی اللہ کی بات اپنے مسلمان بھائیوں سے خاص طور پر تبلیغی جماعت کے لوگوں سے کہی تو انھوں نے کہا’’ارے بھئی ہم تو سدھر جائیں، ابھی ہمارے اعمال خراب ہیں جب ہمارے اعمال اچھے ہو جائیں گے تو لوگ خود بخود اسلام میں داخل ہونے لگیں گے‘‘۔ اس کا واضح جواب چاہتا ہوں۔ (ریحان خان، بھوپال)

جواب

اصولی اعتبار سے یہ بات غلط ہے کہ’’مسلمانوں کی اصلاح کرو، اور جب ان کی اصلاح ہو جائے گی تو لوگ خود بخود اسلام قبول کر لیں گے‘‘ حقیقت یہ ہے کہ دعوت اپنے آپ میں ایک ذمے داری ہے۔ دعوت کا کام ہر حال میں کرنا ہے، جس طرح نماز ہر حال میں پڑھنا ہے۔ کوئی بھی عذر دعوتی فریضے کی ادائیگی سے باہر رہنے کے لیے کافی نہیں۔ یہ حضرات اگر اپنے نظریے کو درست سمجھتے ہیں تو وہ

‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues

Printed page