Al-Risala · December 2005 · page 526

Prospects and Challenges.

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۲۶

تارکین صلوٰۃ سے نماز پڑھنے کے لیے بھی نہ کہیں، وہ یہ کریں کہ وہ خود نماز پڑھیں اور یہ یقین کریں کہ لوگ ان کو دیکھ کر اپنے آپ نماز پڑھنے لگیں گے۔

تبلیغ کا کام کئی نسل سے چل رہا ہے۔ یہ لوگ اپنی تقریروں میں کہتے ہیں کہ’ ’اس کام کی برکت سے ساری دنیا میں کروڑوں لوگ دین دار بن چکے ہیں۔ ‘ ‘ پھر یہ کروڑوں لوگ کیوں نہیں دعوت کے میدان میں آتے۔ ایسی حالت میں یا تو تبلیغ والوں کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ انھوں نے ’’ساری دنیا میں دین کی ہوائیں چلادی ہیں‘‘ یا ان کے اندر یہ جذبہ ہی نہیں کہ دنیا کے لوگوں کو ہدایت ملے، اور وہ جہنم کے راستے کو چھوڑ کر جنت کے راستے پر چلنے لگیں۔

تبلیغی جماعت کا کام اگر صرف مسلمانوں کی اصلاح ہے تو ان کو دعوت کا لفظ ہر گز نہیں بولنا چاہیے ۔ پھر انھیں اصلاحِ المسلمین کا لفظ بولنا چاہیے۔ تبلیغ و دعوت کا لفظ قرآن میں، غیر مسلموں میں اللہ کا پیغام پہنچانے کے لیے استعمال ہوا ہے۔ موجودہ حالت میں تبلیغی جماعت کا یہ نام ’’برعکس نہند نام زنگی کافور‘‘ کا مصداق ہے۔ تبلیغی جماعت، مسلم عوام میں ایک اچھا کام کر رہی ہے۔ لیکن یہ اصلاحِ المسلمین کا کام ہے، وہ دعوت کا کام نہیں۔ تبلیغی جماعت ’’مسجد و تحریک‘‘ ہے، وہ دعوت وار تحریک نہیں۔ تبلیغی جماعت کا کام مولانا الیاس صاحب کے زمانے سے آج تک ایک ہی نہج پر ہو رہا ہے، وہ یہ کہ مسلمانوں میں نقل و حرکت کر کے ان کو مسجد میں لانا اور انھیں کلمہ اور نماز سکھانا، فضائل کے قصے سنا کر انھیں تبلیغ میں جوڑنا۔ اس جماعت کے عین مزاج کے مطابق، اس میں اکرامِ مسلم کا تصور تو ہے مگر اس میں اکرامِ انسان کا تصور نہیں۔ اس میں اصلاحِ امت کا تصور تو ہے مگر اس میں اصلاحِ انسانی کا تصور نہیں۔ بظاہر یہ کام ایک درست کام نظر آتا ہے مگر وہ اثمهما اكبر من نفعهما (البقرہ ۲۱۹) کا مصداق ہے۔ جماعت کے اس نہج کی بنا پر مسلمانوں میں دعوتِ عام کا تصور، شعوری طور پر حذف ہوگیا جو کہ امتِ محمدی کی اصل ذمے داری ہے۔ ایک عالم جو تبلیغی جماعت کو بہت قریب سے جانتے ہیں، انھوں نے اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا: ’’تبلیغی جماعت نے دعوت کو ہائی جیک کر لیا ہے۔ ‘ ‘ ان کا یہ تبصرہ بلاشبہ جماعت کی مذکورہ صورتِ حال کے عین مطابق ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues

Printed page