Prospects and Challenges.
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۲۷
یہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے کہ مسلمان اگر سدھر جائیں تو غیر مسلم ان کو دیکھ کر اسلام کو اختیار کر لیں گے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ دنیا میں ایک لاکھ سے زیادہ پیغمبر آئے، اور یہ پیغمبر مسلمہ طور پر اخلاق کے اعلیٰ معیار پر تھے۔ مگر ایسا نہیں ہوا کہ پیغمبروں کو دیکھ کر لوگ خدا کے دین کو اختیار کر لیں۔ حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ اور دوسرے تمام پیغمبروں کا وہ حال ہوا جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: یا حسرۃ علی العباد ما يأتيهم من رسول إلا كانوا به يستهزؤن (يٰس : ٣٠)
اصل یہ ہے کہ آدمی جب کسی کو نیکی کی تلقین کرے تو سنجیدگی کا تقاضا ہے کہ وہ خود بھی اس پر کار بند ہو۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ عمل، دعوت کی شرط ہے۔ دعوت کا کام ہر حال میں جاری رکھا جائے گا، خواہ داعی عامل ہو یا نہ ہو۔ ابن کثیر نے سورۃ البقرہ آیت ۲۴ کے تحت لکھا ہے کہ ’’معروف کی تلقین کرنا اور اس پر عمل کرنا دونوں واجب ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک دوسرے کے ترک سے ساقط نہیں ہوتا۔ علماء سلف اور علماء خلف کا صحیح ترین قول یہی ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ عالم معروف کی تلقین کرے گا اگر چہ وہ اس پر عمل نہ کرتا ہو، اور وہ منکر سے روکے گا اگر چہ وہ خود اس کا مرتکب ہو۔ ’’اگر ایسا ہوتا کہ آدمی صرف اُس وقت معروف کی تلقین کرے اور منکر سے روکے جب کہ اس کے اندر کوئی چیز نہ پائی جارہی ہو تو کسی شخص نے بھی معروف کی تلقین نہ کی ہوتی اور نہ وہ منکر سے روکتا‘‘۔ (سعید بن جبیر تابعی، تفسیر ابن کثیر، جلد اول، صفحہ ۸۵)
اصل یہ ہے کہ دعوت احساس ذمے داری کے تحت ظاہر ہونے والا عمل ہے نہ کہ احساس صالحیت کے تحت۔ مدعو جب اپنے دین کو چھوڑ کر اسلام کو اختیار کرتا ہے تو وہ اسلام کی اپنی صداقت کی بنا پر ایسا کرتا ہے، نہ کہ مسلمانوں کو باعمل دیکھ کر۔ اگر داعی کے باعمل ہونے کو دیکھ کر لوگ حق کو قبول کرتے تو تمام انبیا کے گرد انسانوں کی بھیڑ دکھائی دیتی۔ مگر معلوم ہے کہ پیغمبر آخر الزماں کے سوا کسی بھی پیغمبر کے گرد انسانوں کی کوئی بڑی جماعت اکٹھا نہیں ہوئی۔ اعداد و شمار کے مطابق، ہر سال صرف امریکا میں تقریباً ایک لاکھ غیر مسلم اسلام میں داخل ہوتے ہیں۔ اگر یہ درست ہے کہ مسلمانوں کو باعمل دیکھ کر لوگ اسلام میں
‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues