Prospects and Challenges.
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۲۸
داخل ہوتے ہیں، تو کیا امریکا اور دوسرے مقامات پر رہنے والے مسلمان ایسے ہی باعمل ہیں جنھیں صرف دیکھ کر غیر مسلموں کی اتنی بڑی تعداد اسلام میں داخل ہو جائے۔ اصل یہ ہے کہ دعوت ہر حال میں اور ہر شخص کو دینا ہے۔ اس کے لیے مذکورہ قسم کی کوئی شرط نہیں لگائی جاسکتی۔ البیہقی اور ابن عساکر نے جابر بن عبداللہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت حذیفہ نے ہم سے کہا کہ ہم اس علم (دین حق) کے حامل بنائے گئے تھے، اس کو ہم تمھیں دے رہے ہیں، اگرچہ ہم خود اس پر عمل نہ کر سکے (انا حَمَلنا هذا العلم، وإنَّا نؤدّيه اليكم وان كنا لا نعمل به، حياة الصحابة، ٢٦٨/٣) سوال میرے ذہن میں اکثر یہ سوال آتا ہے کہ جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے خواہ وہ ہندو کے گھر میں ہو یا مسلمان کے گھر میں۔ یہ اللہ کی مرضی ہے۔ وہ بچہ اسی ماحول کے مطابق بڑا ہو کر ہندو یا مسلمان بنتا ہے۔ اس میں اُس کا کیا قصور۔ (محمد شار احمد، جھارکھنڈ)
جواب
آپ نے جو سوال کیا ہے اس کا تعلق صرف غیر مسلم گھر میں پیدا ہونے والے بچے سے نہیں ہے۔ بلکہ اس کا تعلق خود مسلمان خاندان میں پیدا ہونے والے بچے سے بھی ہے۔ اس معاملے میں دونوں کا کیس بالکل یکساں ہے۔ اصل یہ ہے کہ پیدا ہونے کے بعد ہر انسان کی کنڈیشننگ شروع ہوجاتی ہے۔ گھر کے اندر اور گھر کے باہر کا ماحول مسلسل طور پر ہر ایک کی کنڈیشننگ کرتا رہتا ہے۔ اس لیے ہر ایک انسان کنڈیشنڈ مائنڈ کا حامل ہوتا ہے۔ غالباً اسی کنڈیشننگ کے معاملے کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : ثمّ رددناه أسفل سافلین۔ ہر آدمی کی یہ ذمے داری ہے کہ شعور کی عمر کو پہنچنے کے بعد وہ اپنی ڈی کنڈیشننگ کرے۔ اس طرح وہ دوبارہ اپنے آپ کو اُس حالتِ فطری پر واپس لے جائے جس کو قرآن میں لقد خلقنا الانسان فی أحسن تقویم کہا گیا ہے۔ اس ڈی کنڈیشننگ کے بغیر کوئی شخص جنت میں داخلے کا مستحق نہیں بن سکتا۔ جو شخص اپنی ڈی کنڈیشننگ کرے وہ قد افلح من زکّھا کا مصداق ہے اور جو شخص اپنی ڈی کنڈیشننگ نہ
‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues