Al-Risala · December 2005 · page 529

Prospects and Challenges.

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۲۹

کرے وہ قد خاب من دښھا کا مصداق۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا آغاز کسی شخص کے لیے مسلم خاندان میں پیدا ہونے سے نہیں ہوتا، بلکہ معرفت یا ڈسکوری سے ہوتا ہے۔ غیر مسلم اگر حق کا مسافر اسلام کی ڈسکوری سے بنتا ہے تو مسلمان اُس وقت حق کا مسافر بنتا ہے جب کہ اسلام اس کے لیے ری ڈسکوری بن جائے۔ پہلی قسم کے لوگوں کے لیے قرآن میں اِنّ الانسان لفی خسر إلا الذین آمنوا کے الفاظ آئے ہیں اور دوسری قسم کے لوگوں کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے: یا أيهها الذين آمنوا آمنوا (النساء: ۱۴۶) سوال میں نے ایک حدیث پڑھی جس میں لکھا تھا’’جنت تلواروں کی چھاؤں میں ہے‘‘۔ اس کا کیا مطلب ہے۔ (ایک قاری، الرسالہ)

جواب

حدیث (ان ابواب الجنة تحت ظلال السيوف) ایک ایسے موقع کی حدیث ہے جب کہ عملاً جنگ چھڑی ہوئی ہو، اور اسلام کے خلاف جارحیت کا، میدان مقابلہ میں بالفعل دفاع کیا جارہا ہو۔ ایسے غیر معمولی وقت میں اہلِ ایمان پر فرض ہو جاتا ہے کہ وہ اسلام کی صفوں میں داخل ہو کر دشمن سے دفاعی مقابلہ کریں اور اسلام کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ آپ کو اس حدیث کے بارے میں اشکال اس لیے پیدا ہوا کہ آپ نے اس کو امن کی حالت یا عام حالت سے متعلق سمجھ لیا۔ حالاں کہ ایسا نہیں ہے۔ عام حالت کے بارے میں اسلام کی جو پالیسی ہے، اس کا بیان پیغمبر اسلام کے اس قول میں ملتا ہے: لا تمنوا لقاء العدو، واسئلوا الله العافية (دشمن سے مد بھیڑ کی تمنا نہ کرو، اللہ سے ہمیشہ امن و عافیت مانگو)۔ سوال نومبر ۲۰۰۳ء کا الرساله آپ کے امریکا کے سفر پر مشتمل ہے آپ نے صفحہ انیس پر لکھا ہے کہ برصغیر کے مسلمان، ہندوستان کے ہندوؤں سے نفرت کرتے ہیں۔ ‘‘ میرے خیال سے یہ بات کسی طرح بھی صحیح نہیں ۔ ہو سکتا ہے چند لوگ ہوں ، اور اگر کوئی ان سے نفرت کرتا بھی ہے تو ان سے نہیں

‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues

Printed page