Al-Risala · December 2005 · page 530

نہ غالباً اس سے کسی طور پر

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۳۰

بلکہ ان کے عمل سے کرتا ہے (عبد الغفار ندوی ، مہاراشٹر )

جواب

فعل سے نفرت ہی کا دوسرا نام فاعل سے نفرت ہے۔ فعل اور فاعل کو نظری منطق میں ایک دوسرے سے جدا کیا جا سکتا ہے۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے دونوں ایک ہیں۔ اگر فعل اور فاعل دونوں الگ الگ ہوتے تو آخرت میں خدا کو یہ کرنا چاہیے تھا کہ وہ صرف فعل کو سزا دے اور فاعل کو اس سے جدا کر کے چھوڑ دے۔ ہندوستانی مسلمانوں کی نفسیات کے بارے میں مذکورہ بیان کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ مسلمانوں کے اخبارات ہندوؤں کے خلاف شکایت سے بھرے ہوتے ہیں مگر ان میں مسلمانوں کی اس دعوتی ذمے داری کا کوئی چرچا نہیں ہوتا کہ ہندوؤں کی شکایتوں کو بھلا کر اُن لوگوں تک خدا کا پیغام پہنچایا جائے۔

سوال

آپ نے اپریل ۲۰۰۵ء کے الرسالہ کے صفحہ ۳۹ پر لکھا ہے ”کہ شعر ایک لفظی آرٹ ہے۔ وہ انسان کے لیے صرف ذہنی تفریح کا سامان بن سکتا ہے۔ شعر کسی حقیقی اصلاح کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ “ جب کہ میں نے ایک حدیث پڑھی جس کا ترجمہ ہے ”بلا شبہ بعض شعر حکمت ہوتے ہیں“۔ جب کہ نہ میں نے ایک حدیث پڑھی اس کا ترجمہ ہے بلا شبہ (ایک قاری، الرسالہ، بہار)

جواب

الرساله اپریل ۲۰۰۰ء صفحہ ۳۹ میں جو بات کہی گئی، سر اس کو آ.. کہ زحمت ہوتے ہیں ۔

نہ غالباً اس سے کسی طور پر

الرساله اپریل ۲۰۰۰ صفحہ ۳۹ میں جو بات کہی گئی ہے اس لو آپ نے غالباً سرسری طور پر پڑھا۔ اگر اس کو زیادہ غور کے ساتھ پڑھتے تو آپ کو خود ہی اس میں اپنے سوال کا جواب مل جاتا۔ حدیث میں جو بات کہی گئی ہے وہ صرف اس مفہوم میں ہے کہ شعر میں بعض حکمت کی بات ہوسکتی ہے۔ مگر الرسالہ میں جو بات کہی گئی ہے وہ تاثیر کے اعتبار سے ہے نہ کہ صرف کسی قولِ حکمت کی موجودگی کے اعتبار سے۔ یہ ممکن ہے کہ کسی شعر میں کوئی ایسی بات ہو جو بظاہر حکمت کی بات ہو، مگر ایسا کبھی نہیں ہوسکتا، اور نہ کبھی ایسا ہوا ہے کہ شاعرانہ کلام کے ذریعے وہ چیز پیدا ہوجائے جس کو الرسالہ کی میں ہیں، ہار ماننے کا ارادہ نہیں ہے، یہ ان کی راہ کا | ایک اور روپ ہے، جو پیر پیدا

‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues

Printed page